شرد پوار نے ’مراٹھا ریزرویشن‘ کے مطالبات کی حمایت کر دی، ’شندے کمیٹی‘ کی منوج جرانگے سے ملاقات

شرد پوار نے کہا کہ ’’ریزرویشن کا تصور مہاراشٹر کے لیے نیا نہیں ہے۔ راج رشی شاہو مہاراج نے پسماندہ طبقہ کی ترقی کے لیے 50 فیصد ریزرویشن دیا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>شرد پوار/ تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں ’مراٹھا ریزرویشن تحریک‘ کے لیڈر منوج جرانگے کی قیادت میں ممبئی میں جاری تحریک کا آج دوسرا دن ہے۔ کنبی ریکارڈ کی تلاش کے لیے ریٹائرڈ جسٹس شندے کی قیادت میں ایک ’شندے کمیٹی‘ تشکیل دی گئی ہے۔ ہفتہ (30 اگست) کو ریٹائرڈ جسٹس شندے نے منوج جرانگے پاٹل سے ملاقات کی۔ اس دوران شندے کمیٹی نے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے کچھ وقت مانگا۔ حالانکہ جرانگے پاٹل نے کہا ہے کہ ’’وہ حیدرآباد اور ستارا ریاستوں کے گزٹیئر کو نافذ کرنے کے لیے ایک منٹ بھی نہیں دیں گے۔ اسی درمیان این سی پی (ایس پی) صدر شرد پوار نے مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کی حمایت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں 72 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے اور اسے عدالت نے بھی قبول کر لیا ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کو اس معاملہ پر فیصلہ لینا چاہیے، اگر ضرورت پڑی تو آئین میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ میں فیصلہ لینا ہوگا۔‘‘

شرد پوار نے کہا کہ ریزرویشن کا تصور مہاراشٹر کے لیے نیا نہیں ہے۔ راج رشی شاہو مہاراج نے پسماندہ طبقہ کی ترقی کے لیے 50 فیصد ریزرویشن دیا تھا۔ ابھی مراٹھا بمقابلہ او بی سی جیسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دونوں ہی طبقوں میں کافی مشکلات اور پسماندگی ہیں۔ پریشانی برداشت کرنے والے اس بڑے طبقہ کے لیے ریزرویشن ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مراٹھا سماج کا ایک بڑا طبقہ زراعت پر منحصر ہے، لیکن زراعت سے خاطرخواہ فائدہ نہ ہونے کی صورت میں انہیں مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ریزرویشن کی ضروت ہے۔ لیکن ایسا کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ دونوں طبقوں کے درمیان تلخیاں نہ بڑھیں۔‘‘


دوسری جانب شیو سینا (یو بی ٹی کے) راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت کا بھی ’مراٹھا ریزرویشن‘ پر بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مراٹھا طبقہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے دیگر پسماندہ طبقوں اور مراٹھوں کے درمیان درار پیدا کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

سنجے راؤت نے کہا کہ ’’اگر ریزرویشن کا مسئلہ مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو بی جے پی وہاں بھی حکومت میں ہے۔‘‘ ریزرویشن پر 50 فیصد کی حد کو ہٹانے کے مطالبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’مراٹھا طبقہ کی معاشی اور معاشرتی مطالبوں کو مکمل کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے میں کیا دقت ہے، جو سڑکوں پر اتر آیا ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کو ممبئی میں جمع ہوئے مظاہرین کو ہمدردی کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔


سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ جب مہا وکاس اگھاڑی اقتدار میں تھی اور بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو فڑنویس نے اس پر مراٹھا ریزرویشن کے مسئلہ کو سلجھانے کے لیے سیاسی عزائم نہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ لیکن وہ اب اس معاملہ کو سلجھانے میں آئینی رکاوٹوں کی بات کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا فڑنویس کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر اہم سیاسی پارٹیوں اور سابق وزرائے اعلیٰ کے ساتھ آل پارٹی میٹنگ کرنی چاہیے اور جرانگے سے ملنا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔