ایودھیا معاملہ پر مصالحت کا فیصلہ مایوس کن: شنکراچاریہ

روی شنکر کو ثالثی کمیٹی کا رکن بنانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سوروپانند سرسوتی نے کہا، ’’جنہیں مصالحت کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ ہندو اور اسلام مذہب کے عالم نہیں ہیں، فریقین کو ان پر اعتماد بھی نہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ کی طرف سے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں مصالحت کے لئے قائم کی گئی کمیٹی پر نکتہ چینی کا دور جاری ہے۔ بنارس کے شاردا پیٹ کے پیٹھادیشور شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی نے بھی کمیٹی پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ثالثی کے فیصلہ کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جمعہ کے روز سنائے گئے فیصلہ پر سوروپانند سرسوتی بنارس میں اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔

شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی نے کہا کہ شری شری روی شنکر تو اس معاملہ میں پہلے بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کی تنظیم ’آرٹ آف لیونگ‘ کی تقریب کے دوران دہلی میں پھیلائی گئی آلودگی کی پاداش میں ان پر جرمانہ بھی عائد ہو چکا ہے جو انہوں نے ابھی تک ادا نہیں کیا ہے۔ شنکراچاریہ نے کہا کہ جن لوگوں کو مصالحت کے لئے ثالث بنایا گیا ہے وہ نہ تو ہندو دھرم کو جانتے ہیں اور نہ ہی مذہب اسلام کے عالم ہیں۔ انہوں نے سوال کیا، کیا مقدمہ کے فریقین کا ثالثیوں پر اعتماد ہے؟، ان کا ثالثیوں پر اعتماد ہونا بے حد ضروری ہے۔

سوامی سوروپانند سرسوتی نے کہا کہ ’’رام مندر معاملہ پر جب مقدمہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو وہاں سماعت کے دوران رام للّا کا جو مقام ہے اسے ہائی کورٹ نے رام جنم بھومی قرار دیا تھا۔ اس کے ملحقہ زمین کو لے کر سنی سینٹرل بورڈ اور نرموہی اکھڑے میں بانٹنے کی بات کہی تھی۔‘‘

یہ بات سپریم کورٹ میں ہونی تھی لیکن سپریم کورٹ نے جنہیں ثالث مقرر کیا ہے ان پر کسی فریق کو اعتماد نہیں ہے۔ ان کی بات نہ ہندو مانتے ہیں اور نہ ہی مسلمان مانتے ہیں، انہیں ثالث کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنے کی بجائے اسے ثالثی کے نام پر ٹال دیا ہے، جو مایوس کن ہے۔

Published: 9 Mar 2019, 5:10 PM