شاہی عیدگاہ معاملہ: الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت آج، اے ایس آئی کو داخل کرنا ہوگا جواب

شاہی عیدگاہ-کرشن جنم بھومی مقدمات پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں آج سماعت ہوگی۔ اے ایس آئی عدالت میں اپنا جواب داخل کرے گی، جس کے بعد فریقین رپورٹ پر بحث کر سکتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>شاہی عیدگاہ مسجد متھرا / تصویر آئی اے این ایس / اے آئی سے بہتر کی گئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الہ آباد: شاہی عیدگاہ اور کرشن جنم بھومی معاملے میں آج دوپہر دو بجے سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں اہم سماعت ہوگی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ یعنی اے ایس آئی عدالت میں اپنا جواب داخل کرے گا۔ جواب داخل ہونے کے بعد توقع ہے کہ دونوں فریق رپورٹ کے مندرجات پر اپنی اپنی دلیلیں پیش کریں گے۔

ہائی کورٹ میں ہندو فریق کی جانب سے دائر کردہ 18 عرضیوں پر اس وقت سماعت جاری ہے۔ ان عرضیوں میں شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے اور متعلقہ زمین پر قبضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسجد فریق نے 22 اگست کو ضابطہ دیوانی کی دفعہ 151 کے تحت ایک درخواست داخل کی تھی، جس میں یکجا کیے گئے مقدمات کی آئندہ کارروائی پر روک لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس سے قبل 30 جنوری کو شاہی عیدگاہ اور کرشن جنم بھومی مقدمے میں تقریباً تین گھنٹے تک سماعت ہوئی تھی۔ جسٹس اویناش سکسینہ کی عدالت میں کارروائی کے دوران اے ایس آئی نے اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی۔ تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 20 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی۔

سماعت کے دوران ہندو فریق کے وکیل مہندر پرتاپ سنگھ نے عدالت کو بتایا تھا کہ مقدمہ نمبر تین میں اب تک اے ایس آئی کی رپورٹ عدالت میں داخل نہیں کی گئی ہے۔ اس پر اے ایس آئی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مکمل جواب اور رپورٹ داخل کرنے کے لیے انہیں دو ہفتوں کا وقت درکار ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔


متھرا میں واقع شاہی عیدگاہ اور کرشن جنم بھومی کو لے کر یہ معاملہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ 17ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دور میں ایک قدیم کیشو دیو مندر کو منہدم کرکے اس مقام پر شاہی عیدگاہ مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقام بھگوان کرشن کی جائے پیدائش ہے۔

دوسری جانب مسلم فریق مسجد کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو درست قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق مسجد کی ملکیت اور وجود آئینی اور قانونی طور پر محفوظ ہے۔ اس مقدمے میں زمین کی ملکیت، عبادت کے حق اور مقام کی آثارِ قدیمہ جانچ جیسے نکات شامل ہیں۔ اس وقت ہائی کورٹ میں 18 سے زائد عرضیاں زیر سماعت ہیں، جن میں دونوں فریق اپنے اپنے دعوے عدالت کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔