سیاہ قوانین کے خلاف جاری کسان تحریک کو شاہین باغ مظاہرہ سے وابستہ خواتین کی حمایت

خواتین کا کہنا ہے کہ "ہمیں کسانوں کے درد کا احساس ہے کیونکہ ہمیں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ یہی کیفیت اب کسان بھائیوں کی ہے۔"

علامتی تصویر / تصویر یو این آئی
علامتی تصویر / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: تین زرعی قانون کے خلاف ملک گیر پیمانے پر جاری کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے کے لئے شاہین باغ تحریک سے وابستہ خواتین کی ایک ٹیم کسانوں کی حمایت کرنے کے لئے آج یہاں راج گھاٹ پر پہنچیں اور ان کے کاز کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

شاہین باغ تحریک سے وابستہ ملکہ، نصرت آرا، کرانتی سہگل اور دیگر خواتین نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں کسانوں کے درد کا احساس ہے اور ہمیں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑا ہے اور اب یہی کیفیت ہمارے کسان بھائیوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناانصافی کے خلاف ہمیں مضبوطی کے ساتھ آنا چاہیے اور ہمارے اتحاد میں ہی ہماری کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان بھائی آج پریشان حال ہیں اور حکومت کسانوں کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے جس طرح حکومت نے قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تحریک کے دوران ہماری بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مشترکہ طور پر ناانصافی کے خلاف لڑائی لڑیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس حکومت کے رویے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ غریبوں، دلتوں، اقلیتوں اور کسانوں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والی نہیں ہے۔ اس لئے سب کو اس کے خلاف سڑکوں پر آنا ہوگا اور حکومت کو بات ماننے کے لئے مجبور کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ کسانوں نے آج راج گھاٹ پر زرعی قانون کے خلاف دھرنا دیا تھا۔

next