پٹنہ: ’شاہین باغ‘ کی طرز پر ’سبزی باغ‘ میں مظاہرہ تیسرے دن بھی جاری

مظاہرے کے تیسرے دن بھی خواتین، بزرگ، بچے، بوڑھے اور نوجوان نے بینر، پوسٹر لئے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور کہا کہ حکومت سی اے اے کو جب تک واپس نہیں لیتی ہم اس جگہ سے ہٹنے والے نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں مسلسل تیسرے روز بھی سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سبزی باغ میں دھرنا و احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرے کے تیسرے دن بھی خواتین، بزرگ، بچے، بوڑھے، نوجوان سبھوں نے بینر، پوسٹر لئے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور کہا کہ حکومت سی اے اے کوجب تک واپس نہیں لیتی ہم اس جگہ سے ہٹنے والے نہیں۔

مقررین نے کہا کہ سی اے اے میں ہم ترمیم نہیں بلکہ سی اے اے قانون ہی نہیں چاہتے کیونکہ یہ ہمارے آئین کے ساتھ کھلواڑ ہے جسے ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے، این آر سی، این پی آر یہ کوئی مسلمانوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ ملک کے 130 کروڑ لوگوں کی لڑائی ہے یہ غریبوں، پسماندوں، دلتوں، قبائلیوں کی لڑائی ہے۔ حکومت خود اس قانون کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے اور اس قانون کے ذریعہ ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے جسے ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے۔

ساتھ ہی مقرر ین نے یہ بھی کہا کہ عوام کے اصل مسائل سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے مرکزی حکومت اس طرح کے نئے نئے قوانین لا رہی ہے تاکہ عوام بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی پر کچھ نہ بولیں۔ یہ سب مرکز کی مودی حکومت کی چال ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آج ہمارے ملک کے اندر ہی روزگار نہیں مل پا رہا ہے تو ہم کس طرح دوسرے ملک سے آئے ہوئے باشندوں کو روزگار دے پائیں گے یہ سوچنے کی بات ہے۔