شاہین باغ مظاہرین کا امت شاہ سے ملاقات کا اعلان، وزارت داخلہ کا ایسی کسی میٹنگ سے انکار

شاہین باغ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امت شاہ سے ملاقات کے لئے تیار ہیں لیکن کوئی خصوصی وفد نہیں بلکہ تمام مظاہرین ملاقات کریں گے، تاہم وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

وزیر داخلہ امت شاہ نے دو دن قبل یہ پیش کش کی تھی کہ مظاہرین ان سے کسی بھی وقت مل سکتے ہیں۔ مظاہرین نے اس پیش کش کو قبول کرتے ہوئے کل دوپہر امت شاہ سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ واضح رہے شاہین باغ میں دو مہینے سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) پر احتجاج جاری ہے۔ دریں اثنا میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ کل 16 فروری کو یہاں کے مظاہرین وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے لئے جائیں گے اور یہ ملاقات دوپہر کو 2 بجے متوقع ہے۔دوسری جانب ایک ویبسائٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرایع کا کہنا ہے کہ کل کوئی ایسی ملاقات کا پرگرام نہیں ہے۔

مظاہرہ کر رہے کچھ لوگوں نے سنیچر کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے امت شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے انہیں بات چیت کے لئے مدعو کیا ہے، لہذا وہ کل ان سے ملنے کے لئے جائیں گے۔ اس پریس کانفرنس کا کوئی منتظم نہیں تھا۔ تاہم ایک گروپ ایسا بھی ہے جو کہہ رہا ہے کہ وہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے لئے نہیں جائے گا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک شخص نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’’ہماری شروع ہی سے یہ مانگ رہی ہے کہ امت شاہ اور نریندر مودی شاہین باغ آئیں۔ یہاں جو بھی بات ہو اسے براہ راست نشر کیا جائے۔‘‘ شاہین باغ میں احتجاج کرنے والے لوگوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ شہریت ترمیی قانون کو واپس لے۔ دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ بات کرنے کے لئے ان کے پاس نہیں پہنچا۔

دریں اثنا، وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہین باغ کے مظاہرین سے وزیر داخلہ امت شاہ کی 16 فروری کو 2 بجے کوئی میٹنگ طے نہیں ہے

لیکن جب 13 فروری کو نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین باغ سے متعلق ایک سوال پوچھا گیا تو مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ہر اس شخص سے بات کرنے کے لئے تیار ہے، جس کے دل میں بھی شہریت ترمیمی قانون کے حوالہ سے کوئی سوال ہے۔ وہ آئیں اور بات کریں۔

امت شاہ نے کہا، ’’اس قانون میں ایسا کون سا التزام ہے جس سے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف، ملک کے خلاف ہے!، اندیشے کی بنا پر تحریک نہیں چلائی جاتی۔ اگر آپ کو اعتراض ہے تو بات کریں۔ میں تیار ہوں۔ میں نے پارلیمنٹ میں ہر سوال کا جواب دیا۔ اعتراض کیا ہے، بتائیے۔ جس کو بھی مسئلہ ہے وہ میرے آفس سے ملنے کے لئے وقت مانگے۔ میں تین دن کے اندر ملاقات کروں گا۔ جو بھی آنا چاہتا ہے، میں سب سے ملنے کے لئے تیار ہوں لیکن کسی کو بھی بحث نہیں کرنی، کیونکہ بحث حقائق کی روشنی میں کرنی پڑے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ کی اس تجویز کے بعد، شاہین باغ میں ہفتے کی سہ پہر 2 بجے کے قریب ایک پریس میٹنگ ہوئی۔ جس میں مظاہرے میں شامل لوگوں نے کہا کہ وہ 16 فروری کو امت شاہ سے ملنے جائیں گے۔ مظاہرے میں شامل ایک شخص نے کہا کہ یہاں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا وہ سب کی رضامندی سے لیا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی خاص پارٹی فیصلہ کرے۔

شاہین باغ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ایک منتظم نے کہا، ’’امت شاہ نے کہا ہے کہ جس کو بھی اس قانون سے پریشانی ہو وہ میرے پاس آئے۔ شاہین باغ کو پریشانی ہے تو شاہین باغ آئے۔ میں امت شاہ جی سے کہنا چاہوں گا کہ ہم کل دو بجے آنے والے ہیں۔ کل پورا ہندوستان ان سے ملنے پہنچے گا۔‘‘

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے کہا، ’’وزیر داخلہ سے ملنے کے لئے کوئی خاص وفد نہیں جائے گا۔ یہاں کا ایک ایک بچہ، ایک ایک عورت اور مرد ان سے ملنے جائے گا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہر شخص ملنے جائے گا جسے اس قانون سے سے پریشانی ہے۔‘‘ لیکن کیا بات چیت کے حل ہونے کی امید ہے؟ اس پر احتجاج کرنے والے لوگوں نے کہا کہ انہوں نے بات کرنے کو کہا، ہم جا رہے ہیں۔ تاہم، یہ گفتگو کہاں ہوگی، کتنے لوگوں کے ساتھ ہوگی! اس سلسلے میں ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

Published: 15 Feb 2020, 6:11 PM