دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پانی و بجلی کی شدید قلت، درس و تدریس بری طرح متاثر: دیویندر یادو

دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی حکومت کے سروے میں 100 سے زائد اسکولوں میں بجلی اور پانی کی شدید قلت سامنے آئی ہے، جس سے درس و تدریس پر اثر پڑا ہے اور طلبہ و اساتذہ کو سخت مشکلات درپیش ہیں

<div class="paragraphs"><p>دیویندر یادو / تصویر آئی این سی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی شدید قلت نے درس و تدریس کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صورتحال کسی سیاسی الزام تراشی پر مبنی نہیں بلکہ خود حکومت کے محکمہ تعلیم کے سروے میں سامنے آئی ہے۔

یادو نے بتایا کہ دہلی کے 703 اسکولوں میں سے 100 سے زیادہ ایسے ہیں جہاں پانی اور بجلی کی فراہمی انتہائی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق 100 سے زائد اسکول پانی کے ٹینکروں پر منحصر ہیں، 59 اسکولوں میں پانی کبھی آتا ہے کبھی نہیں، 48 اسکولوں میں بالکل یا تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزید برآں 22 اسکول مکمل طور پر ٹینکروں پر، 64 اسکول بورویل پر اور 10 اسکول ایسے ہیں جہاں پانی کی فراہمی ہی بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی صورتِ حال بھی مختلف نہیں۔ سروے کے مطابق 6 اسکولوں میں بجلی کا کنیکشن تک موجود نہیں، 17 اسکولوں میں بار بار بجلی غائب ہو جاتی ہے جبکہ 16 اسکولوں میں فراہمی انتہائی غیر مستقل ہے۔ ایسے اداروں میں جہاں جنریٹر دستیاب نہیں، وہاں تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ گرمی کے موسم میں طلبہ کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بورویل کے پانی کے معیار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔


دیویندر یادو نے دہلی کی موجودہ بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صرف اعلانات پر اکتفا کر رہی ہے اور گزشتہ سات ماہ میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے اپنے دور میں دہلی کے تعلیمی نظام کو بدحال کر دیا اور اب بی جے پی حکومت اصلاحات کرنے کے بجائے نجی اسکولوں کی فیس بڑھانے کی اجازت دے کر والدین پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے عآپ کی (سابق) وزیرِ تعلیم آتشی اور بی جے پی کے موجودہ وزیرِ تعلیم آشیش سود کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے لندن کے پرائمری اسکولوں کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ دہلی کے اسکولوں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ یادو نے سوال کیا کہ جب اسکولوں میں بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں موجود نہیں تو لندن کا ماڈل دہلی میں کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے؟

یادو نے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے، اس کے بعد ہی مصنوعی ذہانت، ورچوئل ریالٹی اور دیگر جدید مضامین پر اساتذہ کی تربیت کا منصوبہ بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو ایک سطح پر لانا لازمی ہے تاکہ دہلی کے طلبہ کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں کی بدتر حالت براہِ راست طلبہ اور اساتذہ کو متاثر کر رہی ہے اور بی جے پی حکومت اگر سنجیدہ ہے تو فوری طور پر عملی اقدامات کرے، ورنہ صرف دعوے اور اعلانات دہلی کے تعلیمی بحران کو مزید بڑھا دیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔