کشمیر: برف باری سے شدید جانی و مالی نقصان، زمینی و فضائی رابطے اور بجلی سپلائی منقطع

برف باری کا سلسلہ تھمنے کے باوجود وادی بھر میں جمعے کو بھی بجلی کی سپلائی بند رہی اور وادی کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع رہا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں شدید جانی و مالی نقصان کا سبب بننے والا بھاری برف باری کا سلسلہ جمعرات کی شام دیر گئے تھم گیا جس کے بعد اہلیان وادی نے راحت کی سانس لی۔ برف باری کا سلسلہ تھمنے کے باوجود وادی بھر میں جمعے کو بھی بجلی کی سپلائی بند رہی اور وادی کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع رہا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سے جمعرات کی شام دیر گئے تک جاری رہنے والی بھاری برف باری کی وجہ سے کم از کم 10 افراد بشمول دو فوجیوں اور تین پورٹروں کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کشمیر: برف باری سے شدید جانی و مالی نقصان، زمینی و فضائی رابطے اور بجلی سپلائی منقطع

برف باری کی وجہ سے جہاں سیب مالکان کا بھاری نقصان ہوا ہے وہیں ہزاروں کی تعداد میں درخت بشمول ثمردار درخت ٹوٹ یا جڑ سے اکھڑ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں ڈھانچوں بالخصوص رہائشی مکانات و گائو خانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ادھر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں قائم میڈیا سنٹر میں جمعرات کو انٹرنیٹ خدمات بار بار معطل ہوجانے کی وجہ سے جمعے کے روز کئی روزنامے شائع نہ ہوئے۔ میڈیا سنٹر میں جمعے کو بھی انٹرنیٹ خدمات سہ پہر تین بجے تک معطل رہیں جس کے نتیجے میں صحافیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کشمیر: برف باری سے شدید جانی و مالی نقصان، زمینی و فضائی رابطے اور بجلی سپلائی منقطع

بتادیں کہ وادی میں ہر طرح کی انٹرنیٹ خدمات پانچ اگست سے معطل رہنے کی وجہ سے یہاں مقیم تمام صحافی سرکاری میڈیا سنٹر سے ہی اپنی رپورٹیں، تصاویر اور ویڈیوز اپنے متعلقہ اداروں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سری نگر سے شائع ہونے والے تمام اخبارات کے لئے خبریں حاصل کرنے کا واحد وسیلہ ہے۔ اس دوران وادی کے اکثر علاقوں میں لوگوں کی شکایت ہے کہ انتظامیہ سڑکوں پر سے برف ہٹانے اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو ٹھیک کرنے میں سستی سے کام لے رہی ہے۔ دور دراز علاقوں میں لوگوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ایک ہفتے بعد بھی بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوگی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی میں موسم 13 نومبر تک مجموعی طور پر خشک رہے گا۔ محکمہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی بھر میں بھاری برف باری ہوئی ہے اور وادی کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کا بھی خطرہ موجود ہے۔

کشمیر: برف باری سے شدید جانی و مالی نقصان، زمینی و فضائی رابطے اور بجلی سپلائی منقطع

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے بالائی علاقوں میں ساڑھے تین سے چھ فٹ برف کھڑی ہوچکی ہے۔ مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ میں تین سے چار فٹ، پہلگام میں دو سے تین فٹ، سونہ مرگ میں ڈھائی سے ساڑھے تین فٹ اور دودھ پتھری میں تین سے چار فٹ برف کھڑی ہوچکی ہے۔ سری نگر اور وادی کے دوسرے میدانی علاقوں میں جمعرات کی شام دیر گئے تک ایک فٹ سے 15 انچ برف کھڑی ہوئی تھی۔ وادی کے میدانی علاقوں میں سن 2018 میں پہلی برف باری 3 نومبر کو ہوئی تھی جس کے نتیجے میں سیب باغ مالکان کا بھاری نقصان ہوا تھا کیونکہ اس وقت بھی مختلف اقسام کے سیب درختوں پر ہی تھے۔ تاہم سن 2017 میں موسم سرما کی پہلی برف باری طویل انتظار کے بعد 12 فروری کو ہوئی تھی۔

بھاری برف باری کی وجہ سے جہاں جمعے کو بھی وادی کی بیشتر سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر رہی وہیں جن سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی جاری رہی ان پر گاڑیاں کچھوے کی رفتار چلتی ہوئی اور پھسلن کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئی نظر آئیں۔
بھاری برف باری کی وجہ سے وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ جمعے کو مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رہی۔ وادی میں برف باری کے باعث سری نگر لیہہ قومی شاہراہ اور مشہور مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت جمعے کو مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہی۔ اس کے علاوہ شمالی کشمیر کے درجنوں دیہات کو ضلعی ہیڈکوارٹروں سے جوڑنے والی سڑکیں گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے تیسرے دن بھی بند رہیں۔ بانڈی پورہ -گریز روڑ اور کپوارہ – ٹنگڈار و کیرن روڑ پر کئی فٹ برف کھڑی ہوگئی ہے۔ ان سڑکوں کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا ہے۔

کم روشنی کے سبب سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی سروس جمعے کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہی۔ ایئر پورٹ میں تعینات ایک افسر نے بتایا کہ کم روشنی کی وجہ سے فضائی سروس کو دوسرے دن بھی معطل رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روشنی میں بہتری آجانے کے ساتھ ہی فضائی خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ محکمہ بجلی (پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ان دعوئوں کے باوجود کہ 'برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں' کے باوجود وادی بھر میں بجلی سپلائی جمعے کو دوسرے دن بھی منقطع رہی۔ وادی بھر میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کشمیر: برف باری سے شدید جانی و مالی نقصان، زمینی و فضائی رابطے اور بجلی سپلائی منقطع