دہلی ایئرپورٹ پر اسپائس جیٹ کی کئی پروازیں متاثر، مسافروں کو پریشانی کا سامنا

دہلی ایئرپورٹ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’اسپائس جیٹ کی کچھ پروازوں کے آپریشن میں رکاوٹ کے باعث مسافروں کو ہونے والی پریشانی کے لیے ہمیں افسوس ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اسپائس جیٹ، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

آپریشن سے متعلق رکاوٹوں کے باعث ہفتہ (19 ستمبر) کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسپائس جیٹ کی کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کر دی گئیں، جس کے باعث سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے۔ افسران نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں یا ایئرپورٹ پر موجود ٹیموں سے مدد لیں۔ دہلی ایئرپورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک ایڈوائزری میں کہا کہ ’’اسپائس جیٹ کی کچھ پروازوں کے آپریشن میں رکاوٹ کے باعث مسافروں کو ہونے والی پریشانی کے لیے ہمیں افسوس ہے۔ دہلی ایئرپورٹ کی ٹیمیں متاثرہ مسافروں کی مدد اور ضروری تعاون کے لیے ایئرلائن اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے قبل 15 ستمبر کو بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت دبئی جانے والی پروازوں کو بار بار ری شیڈول کیے جانے اور تاخیر کے بعد اسپائس جیٹ کے تقریباً 200 مسافروں نے دہلی ایئرپورٹ پر احتجاج کیا تھا۔ ایئرلائن نے کہا تھا کہ ایک طیارے کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد متبادل پروازوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ اسپائس جیٹ مالی اور آپریشنل مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث اس کے بیڑے کا ایک بڑا حصہ گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔


سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے جولائی میں اسپائس جیٹ لمیٹڈ پر اپنے فلائٹ بکنگ پلیٹ فارم پر گمراہ کن ڈیزائن طریقوں جنہیں عام طور پر ’ڈارک پیٹرن‘ کہا جاتا ہے، اپنانے کے لیے ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ ان میں صارفین کو خودکار طور پر اپنے لائلٹی پروگرام میں شامل کرنا اور پہلے سے منتخب آپشنز کے ذریعے تشہیری پیغامات کے لیے رضامندی حاصل کرنا شامل تھا۔ یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا جب اتھارٹی نے پایا کہ ایئرلائن کا آن لائن بکنگ پلیٹ فارم ایسے انٹرفیس ڈیزائن کا استعمال کرتا تھا جو صارفین کی پسند کو متاثر کرتے تھے اور کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ سی سی پی اے نے یہ بھی پایا کہ صارفین کو تشہیری پیغامات موصول کرنے کے لیے رضامند تصور کیا گیا تھا، کیونکہ متعلقہ آپشن صارفین کی جانب سے کسی مثبت کارروائی کی ضرورت کے بغیر پہلے سے منتخب تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔