ممبئی: اکتوبر کی گرمی میں پانی کی شدید قلت، بی ایم سی کا کٹوتی سے انکار

ممبئی میں روازنہ 3,800 ملین پانی کی سپلائی ہوتی ہے، جوکہ وہاں موجود سات جھیلوں سے کی جاتی ہے۔

By یو این آئی

ممبئی: ممبئی میں ہفتے سے پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہوئی اور وہاں کے لوگوں کوپانی کے قلت کا سامنا کرنا پڑا رہا، حالانکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے کسی بھی طرح کی کٹوتی سے انکار کیا ہے، لیکن جنوبی، جنوب وسطی اور مضافات کے متعدد علاقوں میں شہریوں کو پانی نہیں مل پارہا ہے اور وقت سے پہلے سپلائی بند کردی جاتی ہے۔

میونسپل کارپوریشن ممبئی عظمیٰ نے پانی کی سپلائی میں کسی بھی کٹوتی سے انکار کیا ہے، پھر پانی کی سپلائی متاثر کیوں ہوئی ہے، اس کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ کارپوریشن نے 25 اور 26 ستمبر سے پوائی اور ویراولی سیکشن پر واقع سرنگ میں پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کا کام شروع کیا تھا، لیکن اس کی مرمت میں تاخیر ہوگئی اور شہر میں پانی فراہمی متاثر ہوئی، لیکن اب کام مکمل ہوچکا ہے اور اس دوران مغربی مضافات گورے گاؤں، اندھیری اور کھار کے ساتھ ساتھ جنوبی اورجنوب وسطی ممبئی میں سپلائی متاثر ہوئی، ایسا بی ایم سی کا کہنا ہے مگر سائن، انٹاپ ہل، سائن کولی واڑہ اور ماہم وغیرہ میں پانی سپلائی میں کمی واقع ہوئی تھی۔

بی ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں گرمی کی وجہ سے پانی کی سپلائی بڑھ جاتی ہے، اس لیے شہریوں کو قلت کا احساس ہوتا ہے اور سپلائی بھی متاثر ہوتی ہے۔

بی ایم سی کے محکمہ آب رسانی کے انجینئر اشوک کمار کا دعویٰ ہے کہ پانی کی کٹوتی نہیں کی گئی ہے، حال میں مرمت کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ اس لیے دشواری نہیں پیش آئے گی اور نئے نظام کا نفاذ بھی ہوچکا ہے۔ ممبئی میں روازنہ 3,800 ملین پانی کی سپلائی ہوتی ہے۔ جوکہ سات جھیلوں سے کی جاتی ہے۔

جنوبی ممبئی میں ممبادیوی کے ممبراسمبلی امین پٹیل کا کہنا ہے کہ علاقے میں پانی کی شدید قلت ہے، پہلے ایک گھنٹہ سپلائی ہوتی تھی اور اب اس میں تخفیف کرکے نصف گھنٹہ کردیا گیا ہے۔ دوہفتے سے حالات انتہائی سنگین ہیں اور شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں، لیکن بی ایم سی کٹوتی سے ا نکار کررہی ہے۔