بنگلورو: قومی شاہراہ پر کار، بائیک اور کینٹر کی ٹکر، 7 افراد ہلاک
بنگلورو دیہی ضلع میں ہو سکوتے کے قریب قومی شاہراہ پر کار، بائیک اور کینٹر کے درمیان خوفناک تصادم میں سات افراد کی موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق تیز رفتاری ممکنہ سبب ہے، مزید جانچ جاری ہے

بنگلورو: کرناٹک کے بنگلورو دیہی ضلع کے ہوسکوٹے تعلقہ کے ایم ستیہ وارا گاؤں کے قریب جمعہ کی علی الصبح ایک ہولناک سڑک حادثے میں 7 افراد کی جان چلی گئی۔ یہ حادثہ ہوسکوٹے-ڈاباسپیٹے قومی شاہراہ پر پیش آیا جس میں ایک کینٹر ٹرک، ایک موٹر سائیکل اور ایک ایکس یو وی کار شامل تھیں۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کولار سے دیون ہلی کی سمت جا رہی کار پہلے اپنے آگے چل رہی موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹکر کے بعد کار ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں کار سامنے سے آ رہے کینٹر ٹرک سے جا بھڑی اور یوں ایک مہلک سلسلہ وار تصادم پیش آیا۔
کار میں سوار 6 افراد اور موٹر سائیکل سوار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ تصادم اس قدر شدید تھا کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اطلاع کے مطابق کار میں سوار تمام 6 افراد بنگلورو کے کوتھنور علاقے کے رہنے والے تھے۔
مرکزی زون کے آئی جی پی لابھو رام نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ سڑک حادثات کے اس سلسلے میں 7 افراد کی موت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ 6 متوفیوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اہل خانہ سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا کار ڈرائیور نشے کی حالت میں تو نہیں تھا، تاہم فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
حادثے کے بعد کینٹر اور موٹر سائیکل ڈیوائیڈر عبور کر کے سڑک کی دوسری جانب جا گرے، جبکہ بری طرح تباہ شدہ ایکس یو وی تقریباً پانچ سو میٹر دور جا کر رکی۔ سولیبیلے پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ بنگلورو دیہی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ چندرکانت نے بھی مقام حادثہ کا معائنہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی جانچ سے تیز رفتاری حادثے کی بڑی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہوسکوٹے کے سرکاری اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ ادھر مقامی باشندوں نے شاہراہ کے اس حصے کے ڈیزائن اور تعمیراتی معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے سائنسی منصوبہ بندی کے فقدان کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔