عتیق احمد کے بیٹے محمد عمر کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے لگا جھٹکا، ضمانت عرضی خارج

محمد عمر کے خلاف عتیق احمد کے فنانسر بلڈر محمد مسلم نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جسٹس اونیش سکسینہ کی سنگل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو ضمانت عرضی خارج کی دی۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

الٰہ آباد ہائی کورٹ سے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے بیٹے محمد عمر کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ہائی کورٹ نے محمد عمر کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔ محمد عمر کے خلاف عتیق احمد کے فنانسر بلڈر محمد مسلم نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جسٹس اونیش سکسینہ کی سنگل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو ضمانت عرضی خارج کی دی۔ 26 اپریل 2023 کو خلدآباد تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ یہ ایف آئی آر علی احمد، محمد عمر، اسد کالیا، احتشام کریم، اجے اور محمد نصرت کے خلاف درج کرائی گئی تھی۔ یہ ایف آئی آر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی رنگداری، مار پیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں درج کرائی گئی تھی۔ محمد عمر فی الحال لکھنؤ جیل میں بند ہے۔

پیر کو ضمانت مسترد کیے جانے سے چند ہفتے قبل 7 اگست کو ہائی کورٹ نے محمد عمر اور علی احمد کو سخت گائیڈلائنز کے تحت مختصر مدت کے لیے پیرول دی تھی۔ انہیں اپنے چھوٹے بھائی ابان کے جنازے میں شرکت کے لیے کچھ وقت کے لیے جیل سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں میڈیا سے دور رہنے کی واضح ہدایت بھی دی گئی تھی۔ ابان کی موت ایک سڑک حادثے میں ہوئی تھی۔ عدالت کی جانب سے پیرول ملنے کے بعد دونوں جنازے میں شریک ہوئے تھے اور دونوں بھائی ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے بھی نظر آئے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل دونوں بھائیوں نے ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ٹرائل کی کارروائی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی جائے۔ انہوں نے جیل کے اندر اپنی سیکورٹی کو لے کر خوف کا اظہار کیا تھا، جہاں وہ قید ہیں۔ محمد عمر کے خلاف کئی مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں، جن میں 2018 کا دیوریا جیل کیس بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں لکھنؤ کے ایک کاروباری شخص کے مبینہ اغوا، مارپیٹ اور جبراً وصولی کے الزامات ہیں۔ دوسری جانب امیش پال قتل کیس میں عمر کو گواہ امیش پال کے دن دہاڑے قتل کی سازش میں شامل ایک اہم رکن کے طور پر نامزد کیا گیا اور اس کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی گئی۔