سینئر وکیل محمود پراچہ نے بھی عوامی مفاد میں تینوں زرعی قوانین واپس لیے جانے کا کیا مطالبہ

محمود پراچہ نے الزام لگایا کہ ہندوستان کے عوام کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہوئے زرعی قوانین سے مودی سرکار نے ایم ایس پی کو ہٹا لیا ہے۔

محمود پراچہ، تصویر آئی اے این ایس
محمود پراچہ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کسانوں کے تینوں زرعی قوانین واپس لئے جانے کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور مشن سیو کانسٹی ٹیوشن کے کنوینر محمود پراچہ نے دعوی کیا ہے کہ تینوں زرعی قوانین کسانوں کے لئے بربادی کا پروانہ ہے اس لئے حکومت عوامی مفاد میں تینوں زرعی قوانین جلد سے جلد واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ذریعہ دیئے گیے بھارت بند کی اپیل کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ہم ہندوستان کے لوگ کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ زرعی قوانین کو فوراً رد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سال بھر سے کسان احتجاج کر رہے ہیں، مگر مرکز کی بی جے پی سرکار زرعی قوانین کو واپس لینے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس پورے تعطل کے لیے مرکز کی مودی سرکار ذمہ دار ہے۔

محمود پراچہ نے الزام لگایا کہ ہندوستان کے عوام کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہوئے، زرعی قوانین سے مودی سرکار نے ایم ایس پی کو ہٹا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کڑوڑوں عوام کے پیٹ پرلات مارتے ہوئے، مودی سرکار نے زرعی شعبہ میں بعض سرمایہ داروں کے لیے منوپالی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی سرکار کو اقتدار میں لانے کے لیے اَمبانی اور اَڈانی نے پانی کی طرح پیسہ بہایا تھا۔ حکومت بننے کے بعد مودی سرکار اپنے اصلی مالک کے ذاتی مفاد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس طرح مودی سرکار ملک کے آئین کے اندر موجود سوشلسٹ روح کے خلاف کام کر رہی ہے۔


محمود پراچہ نے کہا کہ یہ سب دیکھتے ہوئے مظاہرین کو اب امبانی اور اڈانی کے گھروں پر احتجاج کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے کسان کانٹرکٹ فارمنگ اور بازار کی کھلے کھیل کی وجہ سے پہلے سے خستہ حال ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے علاوہ مودی سرکار زرعی شعبہ میں منوپالی پیدا کرکے اور ملک کی فوڈ سیکورٹی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے ملک مخالف کام کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زراعت پر زیادہ دھیان دیا جائے اور اس کے لیے ایک معقول بجٹ مختص کیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔