کیا آئی پی ایل میں بنگلہ دیش کی حمایت کرنے والے جے ڈی یو کے بزرگ لیڈر کے سی تیاگی پارٹی سے برطرف!
جے ڈی یو کے ذرائع کے مطابق پارٹی میں سینئر لیڈر کے سی تیاگی کا باب بند ہوگیا ہے۔ پارٹی سے ان کے دیرینہ اور روایتی تعلقات کو دیکھتے ہوئے فی الحال ان کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔

جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق سینئر لیڈر کے سی تیاگی کا باب اب پارٹی میں بند ہوچکا ہے۔ حالیہ دنوں میں تیاگی کے کچھ بیانات اور سرگرمیوں کو لے کر پارٹی کے اندر بے اطمینانی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق تیاگی نے پارٹی لائن سے ہٹ کرموقف اختیار کیا تھا جس کے بعد جے ڈی یو قیادت نے ان سے دوری بنانے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی کے ترجمان راجیو رنجن کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ جے ڈی یو کا اب کے سی تیاگی کے ساتھ کوئی رسمی تعلق نہیں رہ گیا ہے۔
بتادیں کہ کے سی تیاگی نے حال ہی میں بہار کے وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار کے لیے’ بھارت رتن‘ کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے باضابطہ طور پر پی ایم مودی کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا تھا۔ اپنے خط میں تیاگی نے لکھا تھا کہ جس طرح چودھری چرن سنگھ اور کرپوری ٹھاکر کو گزشتہ سال بھارت رتن سے نوازا گیا تھا، اسی طرح نتیش کمار بھی اس کے حقدار ہیں لیکن جے ڈی یو نے ان کے مطالبے سے کنارہ کشی کرلی۔ جے ڈی یو کے ترجمان راجیو رنجن نے کہاکہ کے سی تیاگی کے اس مطالبے کا پارٹی کے سرکاری مؤقف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ درحقیقت وہ جے ڈی یو کے ساتھ ہیں یا نہیں، پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے۔ اس لئے ان کے بیانات کوان کی ذاتی رائے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان خوشگوارعلیحدگی ہوچکی ہے۔ تاہم پارٹی قیادت نے فی الحال کے سی تیاگی کے خلاف کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ پارٹی کے ساتھ ان کی طویل اور پرانی وابستگی بتائی جارہی ہے۔ جے ڈی یو کے اندر یہ مانا جارہا ہے کہ تیاگی نے طویل عرصے تک پارٹی میں اہم کردار ادا کیاہے جسے دیکھتے ہوئے قیادت کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کے سی تیاگی اب جے ڈی یو کی پالیسیوں، فیصلوں اور سرکاری موقف کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔
مستقبل میں پارٹی کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات اور سیاسی موقف میں ان کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔ جے ڈی یو کی قیادت نے اس معاملے پر فی الحال متوازن رُخ اختیار کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ یہ علیحدگی پوری طرح پرامن اور آپسی اتفاق سے ہوئی ہے۔ وہیں جے ڈی یو کے اندرونی حلقوں میں اسے ایک دور کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ پارٹی قیادت مستقبل کی حکمت عملی اور تنظیمی مضبوطی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ کے سی تیاگی نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے کرکٹرمستفیض الرحمن کی حمایت میں بیان دیا تھاجو جے ڈی یو قیادت کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کھیل میں سیاست نہیں لانا چاہئے، جب بنگلہ دیش نے ہندو کرکٹر لٹن داس کو اپنی ٹیم کا کپتان مقرر کیا ہے تو ہندوستان کو بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہیے اور انہیں آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت دینا چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔