آج ایک اور سرسید کی ضرورت ہے 

آج سر سید کے نظریات کو اپنانے کی ضرورت ہے، حالات دن بہ دن خراب کیے جا رہے ہیں۔ کہیں مذہب تو کہیں فرقہ کی بنیاد پر تشدد کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ آج پھر ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔

سر سید احمد خاں تصویر سوشل میڈیا
سر سید احمد خاں تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بارہ بنکی: سیکولرازم کا مجسمہ اور معروف اصلاح کار 'سر' سید احمد خاں کی نظر میں تعلیم ہی قوم کی ترقی کا واحد ذریعہ تھا۔ آج معاشرہ کو ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔

رابطہ سیوا سنستھان کی جانب سے اتر پردیش اردو اکاڈمی کے تعاون سے مقامی ذی پیلیس ہال میں منعقد 'سرسید کا نظریہ فکر اور حالات حاضرہ موضوع پر سیمینار میں مقررین نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار کے مہمان خصوصی جہاں گیرآباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر سید احمد علی نے سر سید کی فکر اور 1857 کے غدر کے بعد ہندوستانی سماج، خاص طور پر مسلمانوں کی بدحالی کے پیش نظر ان کی کھوئی شناخت کو واپس دلانے کی کوششوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ سرسید کا خیال تھا کہ ہم غدر میں ناکامی سے ملی ذلت کا بدلہ تعلیم کے ذریعے لے سکتے ہیں۔ ہم اسی کے ذریعہ برطانویوں کے کندھوں سے کندھا ملا کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ سرسید نے 60 سال کی عمر میں یونیورسٹی قائم کرنے کا ارادہ کیا اورمحمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا، جو آج دنیا میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سر سید نے اس یونیورسٹی کو عظیم جذبہ کے ساتھ بنایا۔ اتنی قربانی دینے کے بعد بھی سر سید نے علی یونیورسٹی کو اپنا نام نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرسید نے ہندوستان کو سیکولر ازم کی تصویر اس وقت دکھائی جب ہندوستان کا آئین وجود میں نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کھلے طور پر کہا تھا کہا کہ یہ یونیورسٹی کسی مخصوص مذہب کے لئے نہیں ہے۔ لہذا آج AMU میں کثیر تعداد میں غیر مسلم طلباء پڑھ رہے ہیں۔ یہ سر سید کا حکم ہے جس نے سیکولرزم کے حقیقی معنی کو دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ سرسید نے سال 1883 میں پنجاب میں منعقد ایک جلسے میں کہا تھا کہ ہندو لفظ کسی خاص مذہب کے لوگوں کے لئے نہیں ہے، بلکہ خود کو ہندو کہنا ہندوستان کے ہر شخص کا حق ہے۔ اگر عبادت کے طریقوں کو چھوڑدیں تو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر احسان اﷲ فہد نے اپنے مقالے میں کہا کہ سر سید تعلیم کو ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی داستان کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بے حد دور اندیش تھے۔ مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی تباہیوں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس کمیونٹی میں جدید تعلیم پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور بھائی چارے کو ختم کرنے میں ایک طبقہ لگا ہوا ہے۔ جو لوگ فاسسٹ سوچ میں یقین رکھتے ہیں وہ اقتدار کا استحصال کرتے ہیں۔آج مسلمانوں کے مسائل زیادہ سنگین ہو گئے ہیں۔ کسی کو غدار ٹھرانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست ان کے ذریعہ کی جا رہی ہے۔ سر سید کے وقت میں بھی ایسے حالات موجود تھے۔

جواہر لال نہرو پی جی کالج بارہ بنکی میں صدر شعبۂ ہندی ڈاکٹر راجیش ملّ نے اس موقع پر کہا کہ آج کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اقلیتی برادری کے 25 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس ملک کے ہر سطح پر تعلیم کی موجودہ صورت حال میں سر سید کو یاد کرنے کا حق ہے؟

انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ اصلی تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسے حالات میں کیا ہم سر سید کو ایک ’’آئیکان‘‘ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں؟ سر سید نے ہارورڈ سے سیکھا، لیکن ہم کیا سیکھ رہے ہیں مسلم کمیونٹی کے اہل افراد کو کچھ اور اسکولوں اور کالجوں کو کھولنا چاہیے۔ سر سید کو یہی سچی خراج عقیدت ہوگی۔

سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے جنیسما کے سابق صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر احسن بیگ نے کہا کہ ہمیں سرسید کی وراثت کو آگے بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نفرت کی آگ آج پورے ملک میں جل رہی ہے۔ کیا آج ہمارے پاس اس سے نپٹنے کا کوئی ٹھوس عمل ہے۔ اگر آپ ایک علاج تلاش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوسر سید کے بتائے راستے پر چلنا ہوگا۔ہمیں خود کی تشخیص کرنی ہوگی۔ ہمیں ایسا لائے عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل ترقی پسند خیالات سے بھرپور ہو۔

ودیانت ہندو پی جی کالج ، لکھنؤ میں اسسٹنٹ پروفیسر عصمت ملیح آبادی نے کہا کہ سرسید کی شخصیت کے آگے ہر رائے اور پیمائش چھوٹی پڑ جاتی ہے۔1857 کے غدر میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا تھا۔ سر سید کے دل میں اسے لیکر ایک گہری ٹیس تھی، جس نے انہیں تعلیم کی تحریک کو چلانے کیلئے حوصلہ افزائی کی تھی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی جذبہ کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے ایک قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سر سید نے حیدرآباد کے نظام کے دربار میں جاکر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے چندہ مانگا تھا۔ نظام سرسید کے مخالف تھے، لہذا انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ پرانے جوتوں کے سوا آپ کو دینے کے لیے اور کچھ نہیں ہے۔ سر سید نے ان جوتوں کو ایک چادر میں لپیٹ لیا۔ انہوں نے انہیں موچی سے مرمت کرا کر بازار میں فروخت کیا۔ اس سے موصول شدہ رقم یونیورسٹی کے قیام میں استعمال کی گئی۔ سر سید نے نظام حیدرآباد کو اس رقم کی رسید بھیجی تھی۔

پٹیل مہیلا پی جی کالج بارہ بنکی میں صدر شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر سفت الزہرہ زیدی نے اس موقع پر کہا کہ آج سر سید کے نظریات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ حالات دن بہ دن خراب کیے جا رہے ہیں۔ کہیں مذہب تو کہیں فرقہ کی بنیاد پر تشدد کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ آج پھر ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔ ورنہ مستقبل کیا ہوگا، کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

طالب علم وانیہ مظہر نے تعلیم کو فروغ دینے میں سر سید کے تعاون پر روشنی ڈالی۔

حافظ عبداللہ کی قرآن شریف کی تلاوت کے ساتھ سیمینارکا آغاز ہوا۔ اس سے قبل، ڈاکٹر ایس ایم حیدر نے استقبالیہ تقریر کی۔ سیمینار کے اختتام پر رابطہ سیوا سنستھان کے مینیجر محمد سلیم نے موجود لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا اسرار وارثی نے سیمینار کی نظامت کی۔

اس موقع پر، ڈاکٹر ابرار الحق عثمانی، ڈاکٹر غازی، یاصر سلیم صدیقی، صابر علی خاں، طارق جیلانی، رضوانا علی، چودھری وقار احمد، خورشید احمد خاں، ظفر بن عزیز، نصیر الحق انصاری، سی ایم فیصل، عبد ماجد، ڈاکٹرغفران قاسمی، ماسٹر جلال الدین، سید عاصم علی، محمد اطہر سلیم، محمد مدثر سلیم، زینت افروز، صبیحہ محمود، عامرہ محمود اوررخسانہ پروین سمیت تمام معزز شرکاء موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔