کسان تحریک: کسانوں کو فصل برباد کرتا دیکھ بھارتیہ کسان یونین مغموم!

بھارتیہ کسان یونین کے مطابق مظفر نگر باشندہ یوگیندر اہلاوت نے اپنی گیہوں کی فصل پر ٹریکٹر-ٹریلر چلا دیا اور تقریباً 2 ایکڑ کی فصل کو برباد کر دیا۔ اب تک فصل برباد کرنے کے 4 واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کسانوں کے ذریعہ زرعی قوانین کی مخالفت عروج پر ہے۔ حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ کسان تحریک میں شامل ہونے کے لیے کسان مظاہرین اپنی فصلوں کو برباد کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ ابھی تک کل 4 کسان اپنی فصل تباہ کر چکے ہیں۔ حالانکہ فصلیں تباہ ہوتے دیکھ بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) مغموم نظر آ رہا ہے اور اس نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے قدم نہ اٹھائیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس

دراصل زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر جاری کسانوں کے دھرنے میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے اتر پردیش کے کسانوں سے گزارش کی تھی کہ وہ تحریک میں پہنچنے کے لیے چاہے اپنی کھڑی فصل کو ہی تباہ کر دیں، لیکن مظاہرے میں ضرور شامل ہوں۔ اس اپیل کے بعد ہی کسانوں کے ذریعہ کھڑی فصل کو تباہ کرنے کے معاملے سامنے آنے شروع ہوئے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس

جب کسانوں کے ذریعہ فصل پر ٹریکٹر اور ٹریلر چلائے جانے کی خبریں سامنے آنے لگیں تو بھارتیہ کسان یونین سوچ میں پڑ گئی۔ یونین کی طرف سے یہ جانکاری دی گئی کہ مظفر نگر باشندہ یوگیندر اہلاوت نے اپنی گیہوں کی فصل پر ٹریکٹر-ٹریلر چلا دیا اور تقریباً دو ایکڑ کی فصل کو تباہ کر دیا۔ اس کسان کے پاس کل 2.5 ہیکٹیر زمین ہے۔ کسان کا کہنا ہے کہ انھیں ایم ایس پی نہیں ملتی جس سے کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اہلاوت نے بتایا کہ جاری تحریک میں فصل کو رخنہ انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بجنور ضلع کے چاند پور تحصیل باشندہ روہت کمار نے بھی اپنی گیہوں کی کھڑی فصل کو زرعی بلوں کی مخالفت میں تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2 دیگر کسانوں نے اپنی فصل کو تباہ کیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس

یکے بعد دیگرے چار کسانوں کے ذریعہ فصل تباہ کیے جانے کے واقعہ کو دیکھ کر کسان یونین کے میڈیا انچارج دھرمیندر ملک نے ایک خبر رساں ادارہ سے کہا کہ ’’ابھی تک 4 جگہ سے فصل تباہ کرنے کی خبر آئی ہے۔ ہم نے ان سے نجی طور پر بات بھی کی ہے۔ ساتھ ہی ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی کسان کو فصل برباد کرنے کے لیے نہیں کہا گیا ہے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایسی بھی نوبت آئی تو کسانوں کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

بھارتیہ کسان یونین نے اپنے بیان میں کسانوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی ایسی حالت نہیں آئی ہے کہ فصلوں کو تباہ کیا جائے۔ ہم نے اپریل تک کے لیے کہا تھا کہ اگر حکومت ہم پر دباؤ بنائے گی اور کسانوں کو ہٹائے گی تو اس وقت ہم سوچیں گے۔ کسانوں سے گزارش ہے کہ اس طرح کا قدم نہ اٹھائیں۔ کسان ملک کے قومی سرمایہ ہیں، کیونکہ ہم دنیا کو کھانا مہیا کراتے ہیں۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس

اس مسئلہ پر جب راکیش ٹکیت سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’کسانوں نے خود کہا کہ تحریک میں اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنی فصل کی قربانی بھی دیں گے۔ فی الحال اس کی ضرورت نہیں پڑی ہے، وہ وقت اپریل میں آئے گا جب فصلوں کی کٹائی ہوگی۔ ابھی کچی فصل ہے، اس طرح کا قدم نہ اٹھائیں۔ ابھی فصل کو اُگنے دو۔‘‘ میڈیا کو بتایا گیا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور اس میں جو کسان یہاں پر رہے گا، اس کے گاؤں کی کمیٹی کے لوگ فصل کو تیار کریں گے۔ اگر فصل کو لے کر کوئی بھی فیصلہ لینا ہوگا، وہ اجتماعی طور پر 20 اپریل کے آس پاس لیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Feb 2021, 4:20 PM