قومی

دوسرے لوک سبھا انتخابات: چار قومی اور 11 دیگر پارٹیوں نے حصہ لیا

دوسرےالیکشن میں قومی پارٹیوں نے کل 919 اور دیگر پارٹیوں نے 119 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے. اس کے علاوہ 481 آزاد امیدواروں نے اپنے دم خم پر الیکشن لڑا تھا

سوشل میڈیا

یو این آئی

آزادی کے بعد 1957 میں ہونے والے دوسرے لوک سبھا انتخابات نے نہ صرف صیقل زدہ لیڈروں کو پالیسی ساز بننے کا موقع دیا، انہیں انتخابات میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی پہلی بار منتخب ہوئے تھے۔

لوك سبھا کی 494 نشستوں کے لئے ہونے والے اس انتخابات میں چار قومی، 11 دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ قومی پارٹیوں میں کانگریس، اکھل بھارتیہ جن سنگھ، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور پرجاسوشلسٹ پارٹی شامل تھی. اس الیکشن میں جن سنگھ کے امیدوار اٹل بہاری واجپئی اترپردیش کے بلرام پور سیٹ پر پہلی بار جیت حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔
ریاستی سطح پردیگر پارٹیوں میں جنتا پارٹی، فارورڈ بلاک (مارکسسٹ)، گنتنتر پریشد، اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا، جھارکھنڈ پارٹی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیزنٹ اینڈ ورکر پارٹی، اکھل بھارتیہ رام راجیہ پارٹی ، ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی اور آل انڈیا شیڈول کاسٹ فیڈریشن شامل تھی ۔قومی پارٹیوں کو 73 فیصد سے زائد ووٹ ملے جبکہ علاقائی پارٹیوں کو 7.60 فیصد ووٹ ملے۔حیرت انگیز ڈھنگ سے 19.32 فیصد ووٹروں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دینا بہتر سمجھا۔اس وقت 19 کروڑ 36 لاکھ 52 ہزار سے زائد ووٹروں نے 1519 امیدواروں کے انتخابی قسمت کا فیصلہ کیا تھا۔

اس الیکشن میں قومی پارٹیوں نے کل 919 اور دیگر پارٹیوں نے 119 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے. اس کے علاوہ 481 آزاد امیدواروں نے اپنے دم خم پر الیکشن لڑا تھا.کانگریس نے سب سے زیادہ 490 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے جن میں سے 371 الیکشن جیتنے کامیاب رہے. کئی ریاستوں میں تو زیادہ تر نشستیں ان کے قبضے میں آ گئیں. یہ پارٹی 47.78 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی. سماجوادی نظریہ مانی جانے والی پرجا سوشلسٹ پارٹی نے 189 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا جن میں سے صرف 19 میں کامیاب رہے۔یہ پارٹی 10.41 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ جن سنگھ نے 130 امیدواروں کو انتخابات لڑایا اور اس کے صرف چار امیدوار جیتنے میں کامیاب رہے۔ اس پارٹی کے کل ملے ووٹ فیصد میں پہلے کے انتخابات کے مقابلے میں تھوڑا سااضافہ ہوکر یہ چھ فیصد کے آس پاس پہنچ گئی.پہلے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے پرجوش ہوکر بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے 110 امیدواروں کو ٹکٹ دیا جن میں سے 27 منتخب ہو گئے اور وہ دوسرے لوک سبھا میں بھی دوسری سب سے بڑی پارٹی بنی رہی۔ پہلے لوک سبھا انتخابات میں سی پی آئی کے 16 امیدوار منتخب کئےگئے تھے. یہ پارٹی 8.92 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔

ریاستی سطح کی پارٹیوں نے کل 119 امیدواروں کو ٹکٹ دیا جن میں سے 31 منتخب ہوئے. اس کے ساتھ ہی 481 آزاد امیدواروں نے الیکشن لڑا جن میں سے 42 فاتح ہوئے۔ اس الیکشن میں ہر سیٹ پر اوسط تین سے چار امیدوار وں نے قسمت آزمائی ۔ آندھرا پردیش کے ایک لوک سبھا حلقہ میں 10 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا۔کانگریس کے جواہر لال نہرو اترپردیش کے پھول پور لوک سبھا سیٹ سے منتخب ہوئے تھے. انہیں کل 2،27،448 ووٹ ملے. اسی پارٹی کے لال بہادر نے الہ آباد میں پرجاسوشلسٹ پارٹی کے رادھے شیام پاٹھک کو شکست دی تھی. کانگریس کے فیروز گاندھی رائے بریلی حلقہ میں 1،62،595 ووٹ لاکر منتخب ہوئے تھے جبکہ بہار میں سہسرام سے جگ جیون رام نے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے شیوپوجن سنگھ کو شکست دی تھی. کانگریس کے مرارجی دیسائی سورت سیٹ سے منتخب کئے گئے. انہیں ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد ووٹ ملے۔

جن سنگھ کے امیدوار اٹل بہاری واجپئی اترپردیش کی بلرام پور سیٹ پر 52 فیصد سے زیادہ ووٹ لاکر کانگریس کے حیدر حسین کوہرایا تھا۔ سماجوادی مفکر آچاریہ جے بی کرپلانی بہار کی سیتامڑھی سیٹ سے جیتنے میں کامیاب رہے جبکہ کانگریس کے للت نارائن مشرا (سہرسہ)، وجے راجے سندھیا (گنا) اور ودیا چرن شکلا (بلودابازار) سے جیتنے والوں میں شامل تھے۔

کٹر بائیں بازو مفکر هریندر ناتھ مکھرجی بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر کلکتہ سینٹرل سیٹ سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے. مسٹر مکھرجی کل 135308 ووٹ لاکر کانگریس کے این سانیال کو بھاری ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ سرکردہ مزدور رہنما اور سی پی آئی کے امیدوار شري پد امرت ڈانگے (بمبئی سٹی،سنٹرل)، وی. پرمیشور نائر (کیرالہ کے كوئيلون) اور پی کے واسودیون نائر (ترولا) سے منتخب ہوئے تھے۔

کانگریس کو آندھرا پردیش میں 37، آسام میں 09، بہار میں 41، بمبئی میں 38، کیرالہ میں 06، مدھیہ پردیش میں 35، مدراس میں 31، میسور میں 23، اڑیسہ میں 07، پنجاب میں 21، راجستھان میں 19، اترپردیش میں 70، مغربی بنگال میں 23، دہلی میں 05، ہماچل پردیش میں 04، منی پور میں ایک اور تری پورہ میں ایک نشست ملی تھی۔سی پی آئی کے لیے آندھرا پردیش میں 02، بمبئی میں 04، کیرالہ میں 09، مدراس میں 02، اڑیسہ میں ایک، پنجاب میں ایک، اتر پردیش میں ایک، مغربی بنگال میں 06 اور تری پورہ میں ایک نشست ملی تھی۔ جن سنگھ کو بمبئی اور اتر پردیش میں دو - دو سیٹیں ملی تھی. پرجاسوشلسٹ پارٹی کو آسام میں دو، بہار میں دو، بمبئی میں پانچ، کیرالہ میں ایک، میسور میں ایک، اڑیسہ میں دو، اتر پردیش میں چار اور مغربی بنگال میں دو سیٹیں ملی تھی.جھارکھنڈ پارٹی کو بہار میں چھ سیٹیں ملی تھی. فارورڈ بلاک، گنتنتر پریشد، پيزنٹ اینڈ ورکر پارٹی، ہندو مہاسبھا کو بھی کچھ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔