سندھیا کے وفادار سمندر پٹیل کانگریس میں شامل، 800 گاڑیوں کا قافلہ لے کر پہنچے، بی جے پی پر تذلیل کا الزام

مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے وفادار اور ایم پی بی جے پی ورکنگ کمیٹی کے رکن کانگریس میں شامل ہو گئے۔ نیمچ کے جواد علاقے سے تعلق رکھنے والے سمندر پٹیل نے 2020 میں سندھیا کے ساتھ کانگریس چھوڑ دی تھی

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور جیوترادتیہ سندھیا کے وفادار سمندر پٹیل نے ریاستی کانگریس کمیٹی کے سربراہ کمل ناتھ کی موجودگی میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ سمندر پٹیل اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہونے کے لیے ریاستی دارالحکومت بھوپال میں پی سی سی کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا کہ اس دوران وہ 800 سے زیادہ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ نیمچ کے جواد علاقے سے بھوپال میں پی سی سی آفس پہنچے تھے۔

مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے وفادار اور مدھیہ پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے رکن کانگریس میں شامل ہو گئے۔ نیمچ کے جواد علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک او بی سی رہنما، 52 سالہ سمندر پٹیل بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے جب سندھیا اور ان کے وفادار ایم ایل اے نے مارچ 2020 میں کانگریس کے خلاف بغاوت کی، جس سے کمل ناتھ حکومت کو گرایا گیا۔ تاہم اس بار کانگریس میں شامل ہوتے ہوئے سمندر پٹیل نے کہا کہ وہ بی جے پی میں خود کو ذلیل محسوس کرتے تھے۔


انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا ’’بی جے پی نے نہ تو مجھے قبول کیا اور نہ ہی میرے حامیوں کا احترام کیا۔ ورکنگ کمیٹی کا رکن ہونے کے باوجود مجھے پارٹی کے پروگراموں میں کبھی مدعو نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ میرے حامیوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔‘‘پارٹی کے ایک کارکن نے بتایا کہ پٹیل تقریباً 800 گاڑیوں کے قافلے میں حامیوں کے ساتھ آئے اور ریاستی یونٹ کے سربراہ کمل ناتھ کی موجودگی میں جمعہ کو کانگریس میں شامل ہوئے۔

پٹیل نے کہا ’’میں سندھیا کیمپ سے کانگریس میں واپس آنے والا پانچواں شخص ہوں کیونکہ میں نے بی جے پی میں اپنی توہین محسوس کی، جس کے لیڈر میرے حلقے میں بدعنوانی میں ملوث ہیں۔‘‘ پٹیل نے دعویٰ کیا کہ وہ 1993 سے مادھو راؤ سندھیا اور ان کے بیٹے جیوترادتیہ سندھیا کے کٹر حامی تھے۔ انہوں نے جواد سے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا اور 35000 ووٹ حاصل کیے لیکن 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل دوبارہ شامل ہونے سے پہلے انہیں کانگریس سے نکال دیا گیا۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعہ کو جب وہ دوبارہ کانگریس میں شامل ہوئے تو جواد کے 7000 لوگ ان کے ساتھ تھے۔ شیو پوری ضلع کانگریس کے سابق صدر بیج ناتھ سنگھ یادو بھی سندھیا کے ان وفاداروں میں شامل ہیں جو بی جے پی سے کانگریس میں واپس آئے ہیں۔ ایم پی میں سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;