’مدھیہ پردیش میں جان جوکھم میں ڈال کر ندی پار کرتے اسکولی بچے‘، کانگریس نے ویڈیو شیئر کر بی جے پی کو بنایا ہدف تنقید
کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ’’مدھیہ پردیش کے ودیشا میں اسکولی طلبہ-طالبات جان جوکھم میں ڈال کر ندی پار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طلبہ روزانہ اسی طرح جان ہتھیلی میں رکھ کر اسکول جانے کو مجبور ہیں۔‘‘

مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے پارلیمانی حلقہ ودیشا کی ایک ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کر مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’یہ ویڈیو دیکھیے۔ مدھیہ پردیش کے ودیشا میں اسکولی طلبہ-طالبات جان جوکھم میں ڈال کر ندی پار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طلبہ روزانہ اسی طرح جان ہتھیلی میں رکھ کر اسکول جانے کو مجبور ہیں۔‘‘ کانگریس نے مزید لکھا کہ ’’یہ وہی ودیشا ہے، جہاں سے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ترقی کے کھوکھلے دعوے کرنے والی بی جے پی مدھیہ پردیش میں تقریباً 22 سال سے اقتدار میں ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔ بی جے پی کے لیڈران کو صرف اپنی ’تجوری کی ترقی‘ کی فکر ہے، باقی عوام جیے یا مرے، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ شرمناک!!‘‘
قابل ذکر ہے کہ ویڈیو میں ضلع کے 4 گاؤں کے اسکولی بچے ندی پر بنے اسٹاپ ڈیم کو پار کر اسکول جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اگر دھوکہ سے بھی ان کا پیر پھسلا تو سیدھے گہرے پانی میں گر سکتے ہیں۔ جان جوکھم میں ڈال کر اسکول تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع ہیڈکوارٹر سے متصل بندھیرا، ککروا، املیا اور بہلوٹ گاؤں کے بچے ہائی اسکول کی تعلیم کے لیے روزانہ پلوہ جاتے ہیں۔ ندی پر بنے اسٹاپ ڈیم سے ہو کر فاصلہ محض 5 کلومیٹر ہے۔ لیکن اگر سڑک کے راستے سے جائیں تو ایک طرف 15 کلومیٹر اور آنے جانے میں 30 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑے گا۔
ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ پر شائع خبر کے مطابق گاؤں والے بتاتے ہیں کہ معاشی تنگی کی وجہ سے روزانہ گاڑی کی سہولت ممکن نہیں۔ نتیجتاً بچے جان جوکھم میں ڈال کر روزانہ اسی اسٹاپ ڈیم کو راستہ بنا لیتے ہیں۔ اسٹاپ ڈیم کے درمیان 4 فیٹ کا گیپ ہے، جسے بچے چھلانگ لگا کر پار کرتے ہیں۔ نیچے پانی کا تیز بہاؤ، ذرا سی بے احتیاطی ہوئی تو حادثہ ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈر کی وجہ سے کئی بچوں نے 8ویں کے بعد پڑھائی ہی چھوڑ دی۔ گارجین بھیجنا چاہتے ہیں لیکن راستے کی دہشت انہیں روک لیتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں میڈیا میں خبر آنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی۔ ودیشا ایس ڈی ایم شتج شرما، تحصیلدار اور دیگر افسران کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ صورتحال دیکھ کر انہوں نے تسلیم کیا کہ بچوں کی جان خطرے میں ہے۔ سیکورٹی کے طور پر انتظامیہ نے اسٹاپ ڈیم کے راستے پر خاردار جھاڑیاں اور تار لگا کر آمد و رفت روک دی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہفتہ کو کئی بچے پلوہ اسکول نہیں پہنچ سکے۔ گاؤں والوں کا 2 ہی مطالبہ ہے، پہلا بندھیرا کے اسکول کو ہائی اسکول میں اپگریڈ کیا جائے تاکہ بچوں کو دور نہ جانا پڑے۔ دوسرا اسی اسٹاپ ڈیم کی جگہ ایک پکا پل بنا دیا جائے۔ ایس ڈی ایم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ اسکول اپگریڈیشن اور متبادل راستے جیسے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔
