سی بی آئی ڈائریکٹر کی عرضی پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بنچ نے جمعرات کو ورما اور رضاکار تنظیم ’کامن کاز ‘کی ورما سے اختیارات واپس لینے اور چھٹی پر بھیجے جانے والی عرضیوں پر سماعت پوری کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔

By قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) کے ڈائریکٹر آلوک ورما سے اختیارات واپس لینے اور انھیں چھٹی پربھیجے جانے کے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بنچ نے جمعرات کو ورما اور رضاکار تنظیم ’کامن کاز ‘کی ورما سے اختیارات واپس لینے اور چھٹی پر بھیجے جانے والی عرضیوں پر سماعت پوری کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ورما کو سی بی آئی کے اسپیشل ڈائکریکٹر راکیش استھانہ کے ساتھ ہوئے تنازعہ کے بعد حکومت نے 23 اکتوبر کو چھٹی پر بھیج دیا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے۔

چیف جسٹس اور جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے فیصلے پر سخت موقف اختیار کیا۔ بنچ نے سوال کیا کہ سی بی آئی کے دواعلی افسران کے مابین لڑائی راتوں رات سامنے نہیں آئی تھی ۔عدالت نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں تھا کہ حکومت کو سلیکشن کمیٹی سے بات کیے بغیر سی بی آئی ڈائریکٹر کے اختیار کو فوراً ختم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

گوگوئی نے کہا کہ حکومت نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ ایسی صورتحال جولائی سے ہی پیدا ہو رہی تھی۔ بنچ نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت ڈائریکٹر کے اختیارات پر روک لگانے سے پہلے سلیکشن کمیٹی سے اس کی منظوری لے لیتی تو قانون پر بہتر طریقہ سے عمل ہوتا۔

بنچ نے کہا کہ حکومت کی کارروائی کا جذبہ ادارے کے حق میں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’’جب ورما کچھ ماہ میں ریٹائر ہونے والے تھے تو کچھ اور ماہ کا انتظار یا سلیکشن کمیٹی سے صلاح ومشورہ کیوں نہیں کیا گیا۔‘‘

بدھ کے روز اس معاملہ کی سماعت کےدوران ایڈوکیٹ جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت کے سامنے حکومت کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سی بی آئی ڈائریکٹر اور استھانہ کے درمیان چل رہے تنازعہ میں اس لیے مداخلت کرنی پڑی کیونکہ دونوں بلیوں کی طرح جھگڑ رہے تھے۔ حکومت کو اس اہم ادارے کی معتبریت کو قائم رکھنے کے لیے دخل دینا پڑا۔