تیج بہادر کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت، الیکشن کمیشن سے جواب طلب

ضلع مجسٹریٹ نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 9 اور دفعہ 33 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیج بہادر یادو کی نامزدگی اس لئے قبول نہیں کی گئی کیونکہ وہ مقررہ وقت پر ضروری دستاویزات پیش نہیں کر سکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بنارس پارلیمانی حلقہ سے نامزدگی رد کیے جانے کے خلاف سرحدی سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے برخاست جوان تیج بہادر یادو کی شکایت پر الیکشن کمیشن کو جمعرات تک اپنا موقف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کی شکایت کی جانچ کر کے اپنا موقف کل تک عدالت کے سامنے پیش کرے۔

تیج بہادر کی جانب سے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ کے ایک سابقہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے متعلق عرضیاں مثالی ضابطہ اخلاق (ایم سی سی) کے دوران دائر کی جا سکتی ہیں۔ تیج بہادر یادو نے نامزدگی منسوخ ہونے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ٹکٹ پر پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے تیج بہادر نے الیکٹورل افسر کے ذریعہ اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔

درخواست گزار نے الیکٹورل افسر کے یکم مئی کے اس حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت ان کی ( تیج بہادر) نامزدگی مسترد کی گئی ہے۔ تیج بہادر نے پہلے آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ اس کے بعد ایس پی نے انہیں اپنا امیدوار قرار دے دیا۔ سماجوادی پارٹی نے پہلے شالنی یادو کو ٹکٹ دیا تھا۔ تیج بہادر کا پرچہ منسوخ ہونے کے بعد اب سماجوادی پارٹی کی جانب سے شالنی یادو پی ایم مودی کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ بی ایس ایف کے جوان تیج بہادر کے ایک ویڈیو نے تنازعہ کھڑا کر دیا تھا جس میں وہ الزام لگاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بی ایس ایف کے جوانوں کو خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انہیں بی ایس ایف سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ ضلع الیکٹورل افسر سریندر سنگھ نے تیج بہادر یادو کی طرف سے پیش کیے گئے کاغذات نامزدگی کے دو سیٹ میں 'خامیاں' نکالتے ہوئے ان سے ایک دن بعد نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرنے کو کہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ تیج بہادر نے 24 اپریل کو آزاد اور 29 اپریل کو ایس پی کے امیدوار کے طور پر نامزدگی داخل کی تھی۔ انہوں نے بی ایس ایف سے برخاستگی کے سلسلے میں دونوں نامزدگیوں میں مختلف دعوے کیے تھے۔ اس پر تیز بہادر سے کہا گیا تھا کہ وہ بی ایس ایف سے اس بات کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ پیش کریں جس میں ان کی برطرفی کے اسباب دیئے گئے ہوں۔

ضلع مجسٹریٹ سریندر سنگھ نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ نو اور دفعہ 33 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیج بہادر یادو کی نامزدگی اس لئے قبول نہیں کی گئی کیونکہ وہ مقررہ وقت میں ضروری دستاویزات پیش نہیں کر سکے۔