سعودی عرب میں مالیاتی چوٹی کانفرنس شروع، پی ایم مودی سمیت متعدد عالمی رہنما شریک

ایف آئی آئی کی اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچین، وزیر توانائی رک پیری اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیراڈ کوشنر بھی حصہ لے رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

از:جاوید اختر

ریاض: سعودی عر ب کے دارالحکومت ریاض میں آج تین روزہ انتہائی اہم مالیاتی کانفرنس شروع ہوگئی ہے جس کا مقصد خلیجی مملکت میں تیل پر مبنی معیشت کو متنوع کرنے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔ کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت متعدد عالمی رہنما موجود ہیں ’ریگستان میں ڈاووس‘ کے نام سے موسوم یہ فائنانشیل انیشی ایٹیو فورم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایما پر ہو رہی ہے۔

یہ فورم کا تیسرا سالانہ اجلاس ہے۔ اس کا مقصد سعودی مملکت کا پٹرولیم پروڈکٹس پر اپنے انحصار کو کم کرکے معیشت کے فروغ کے دیگر ذرائع تلاش کرنا ہے۔ یہ پرعزم منصوبہ ویژن 2030 کا حصہ ہے، ایف آئی آئی کی اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچین، وزیر توانائی رک پیری اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیراڈ کوشنر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

سعودی شہنشایت سے برگشتہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے گزشتہ سال متعدد عالمی رہنماوں نے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اجلاس میں اس سال متعدد اہم صنعت کار، حکومتوں کے مشیر وغیرہ بھی حصہ لے رہے ہیں۔ جیراڈ کوشنر امریکہ کے مستقبل کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

وزیر اعظم مودی کل دیر رات ریاض پہنچے اور ہوائی اڈے پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ وہ ’ہندوستان کے لئے آگے کیا؟‘ کے موضوع پر آج دیر شام خطاب کریں گے۔ پی ایم مودی نے دہلی سے روانہ ہونے سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ وہ عالمی سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں بڑھتی ہوئی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بتائیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ ہندوستان 2024 تک اپنی معیشت کو پانچ ٹریلین ڈالر تک لے جانے کے لئے کیا اقدامات کر رہا ہے۔

اس اجلاس میں اردن کے شاہ عبداللہ، برازیل کے صدر جیئر بولسوناررو‘ نائیجریا کے صدر محمد بہاری‘ کیینا کے صدر اوہورو کانیاتا، سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔اجلاس میں تیس سے زائد ملکوں سے چھ ہزار سے زیادہ مندوب حصہ لے رہے ہیں۔ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی بھی اس اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت سالانہ 28 بلین ڈالر ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کے مقابلے پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ باہمی تجارت چار بلین ڈالر سے بھی کم ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری پٹرولیم کمپنی ارامکو نے مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ پٹرولیم کے شعبے میں 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ممالک دفاعی تعلقات بالخصوص بحری سلامتی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اس برس کے اواخر میں دونوں ملک مشترکہ بحری فوجی مشقیں کرنے والے ہیں۔ ہندوستان سعودی سیکورٹی اہلکاروں اور سائبر سیکورٹی کے شعبہ میں سعودی افسران کوتربیت بھی دے رہا ہے۔