ٹرمپ کی ولی عہد محمد سے ٹیلی فون پر گفتگو، ’سعودی میں دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کر کے مدد کی پیشکش کی ہے، جس کے جواب میں ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ سعودی عرب دہشت گردوں سے نمٹنے کی خود صلاحیت رکھتا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان 
شہزادہ محمد بن سلمان
user

یو این آئی

واشنگٹن: سعودی عرب کے تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کر کے مدد کی پیشکش کی ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب دہشت گردوں سے نمٹنے کی خود صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیلفون پر رابطہ کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے یمن سے ہونے کا ثبوت نہیں ملے۔


ان کا کہنا تھا کہ ’’حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، عالمی برادری اس کی مذمت کرے‘‘۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی ایران پرالزام لگاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں ایرانی آئل تنصیبات پر بمباری کی جانی چاہیے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب نے حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں پلانٹس سے تیل کی پیداوار عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملوں سے آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔


سعودی عرب کی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صبح 4 بجے آرامکو کی صنعتی سیکورٹی ٹیموں نے ڈرون حملے کے نتیجے میں عقبیق اور خریس کی پلانٹوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لئے کام شروع کردیا تھا جبکہ واقعہ میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں حملہ آوروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے اور کہا کہ وہ ابھی اس سلسلہ میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے حملہ کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے دس ڈرونز کی مدد سے ان دو آئل فیلڈز پر حملہ کیا تھا۔ حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔


خیال رہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی شیبہ میں آرامکو کے قدرتی گیس کے پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی البتہ کسی کے بھی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

سعودی آرامکو عقبیق میں واقع تیل کی فیکٹری کی دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا پلانٹ قرار دیتی ہے جہاں اس پلانٹ پر 2006 میں القاعدہ نے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 15 Sep 2019, 5:10 PM