ستیہ نکیتن حادثہ: تینوں ملزمان کو 2 دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا

پولیس کے مطابق لیبر کنٹریکٹر نے بتایا کہ جس دن عمارت منہدم ہوئی، اس دن بیسمنٹ کے فرش کی مرمت کی جا رہی تھی، کیونکہ گزشتہ 8 سے 10 دنوں سے بارش کے موسم کے باعث وہاں کچرا جمع ہو رہا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز / وپن</p></div>
i

دہلی کے ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے معاملہ میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے گرفتار کیے گئے تینوں ملزمان کو 2 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ دہلی پولیس نے عمارت کے مالک کے بیٹے مہیش گپتا، تعمیراتی کام کرانے والے ٹھیکیدار سنوج اور پی جی آپریٹر سدھانشو کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا۔ مہیش گپتا کی پہلے کی 2 دن کی پولیس حراست مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران دہلی پولیس نے تینوں ملزمان کی پولیس حراست میں مزید 3 دن کی توسیع کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ معاملے میں ایک دیگر ملزم شبھم تیاگی کی گرفتاری اب بھی باقی ہے۔ پولیس کے مطابق مکان مالک ہری رام گپتا نے عمارت کی ایک منزل شبھم تیاگی کو لیز پر دی تھی۔ سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے میں میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ اس پر اعتراض کیے جانے کے بعد عدالت نے میڈیا نمائندوں کو کورٹ روم سے باہر جانے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد کورٹ روم میں صرف ملزمان اور ان کے وکلاء موجود رہے۔ معاملے کی سماعت کے بعد عدالت نے تینوں ملزمان کو 2 دن کی پولیس حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔


اس سے قبل دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو مہیش کو 2 دن کی پولیس حراست میں بھیجا تھا۔ جبکہ ارمیلا اور ہری رام کو منگل کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران مہیش نے بتایا کہ وہ اپنے والدین (ارمیلا اور ہری رام) کی جانب سے عمارت کی دیکھ بھال کا کام دیکھتا تھا۔ انہوں نے اگست 2025 میں یہ عمارت ’ہاسٹل ڈیز‘ نامی پی جی آپریٹر کو لیز پر دی تھی۔ ایک افسر نے منگل کو بتایا کہ دہلی پولیس نے اتر پردیش کے کاس گنج سے اس لیبر کنٹریکٹر کو گرفتار کیا، جو عمارت کے بیسمنٹ میں مرمتی کام کی نگرانی کر رہا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ لیبر کنٹریکٹر سے ابتدائی پوچھ گچھ میں معلوم ہوا کہ جس دن عمارت منہدم ہوئی، اس دن بیسمنٹ کے فرش کی مرمت کی جا رہی تھی، کیونکہ گزشتہ 8 سے 10 دنوں سے بارش کے موسم کے باعث وہاں کچرا جمع ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی کمرشیل استعمال کے لیے جگہ بڑھانے کے مقصد سے عمارت کے گراؤنڈ فلور کی بھی مرمت کی جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق ’ہاسٹل ڈیز‘ نامی یہ 5 منزلہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر چل رہی تھی اور اتوار کی دوپہر تقریباً 1:30 بجے جب یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت وہاں کئی طلبہ موجود تھے۔ اس حادثے میں 7 افراد کی موت ہو گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔