بی جے پی پر تنقید کےلئے سنجے راوت نے اردو شاعری کا سہارا لیا

شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے بی جے پی پر تنقید کرنے کے لئے اردو شاعری کا سہارا لیا اور اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر لکھا کہ جنہیں اپنے ’’ہوا‘‘ ہونے کا فخر تھا انہیں اب ’’غبارے میں‘‘ قید کر لیا گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ممبئی: شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے بی جے پی پر تنقید کرنے کے لئے اردو شاعری کا سہارا لیا اور اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر لکھا کہ جنہیں اپنے ’’ہوا‘‘ ہونے کا فخر تھا انہیں اب ’’غبارے میں‘‘ قید کر لیا گیا۔ ہندی میں لکھے گئے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں سنجے راوت نے کہا کہ’’ہوا کو گمان تھا اپنی آزادی پر‘‘۔۔ ’’ کسی نے اسے بھی غبارے میں بھر کر بیچ دیا‘‘جئے مہاراشٹر۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سنجے راوت کا یہ ٹوئیٹر پیغام مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر کیا جانے والا تنقیدی پیغام ہے اور اس میں ان کے گزشتہ چار دنوں کے لئے وزارت اعلی کی کرسی کے سنبھالنے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جس کے تعلق سے گزشتہ کل کرناٹک کے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ آنند کمار ہیگڑے نے فڑنویس پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ’ گزشتہ ما ہ فڑنویس چار دنوں کےلئے مہاراشٹر کے وزیر اعلی بنائے گئے تھے اس وقت انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے مہاراشٹر کو ملنے والی 40 ہزار کروڑ کے فنڈ کو واپس کر دیا گیاتھا۔‘‘

سنجے راوت نے اپنے پیغام میں مہاراشٹر بی جے پی اور فڑنویس کو جرائم پیشہ افراد بتلاتے ہوئے کہا کہ جلد ہی ریاست کے چیف سکریٹری اس بات کا پردہ فاش کریں گے کہ آیا فڑنویس نے یہ کام کیا تھا یا نہیں؟ واضح رہے کہ ہیگڑے نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ فڑنویس نے وزیر اعلی کا حلف لینے کا محض ایک ڈرامہ کیا تھا اور اس کے پش پشت مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومت کو ترقیاتی کاموں کو حاصل ہونے والے فنڈ کو مرکز میں واپس بھیجنا تھا۔

Published: 3 Dec 2019, 7:11 PM