شاہین باغ کے مظاہرین سے بات چیت ہوئی لیکن کوئی حل نہیں نکلا، کل پھر ہوگی بات چیت 

مظاہرہ میں بیٹھی خواتین اس بات کو لے کر پرعزم نظر آئیں کہ شاہین باغ کا مظاہرہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک کہ مودی حکومت سی اے اے واپس لینے کا وعدہ نہ کرے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

شاہین باغ کے مظاہرین اس بات سے خوش ہیں کہ کم از کم عدالت نے ہی سہی، حکومت کے کسی ادارے نے ان سے بات چیت کرنے کے لئے کسی کو منتخب تو کیا لیکن وہ اپنے مظاہرہ کو شاہین باغ سے منتقل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس مظاہرہ کی پہچان وہاں کی دادیوں میں سے ایک دادی نے کہا ’ہم نے انگریزو کو نہیں رہنے دیا تم تو کیا چیز ہو‘۔ کافی ہنگامہ کے بعد دو گھنٹے تک مظاہرین کی باتیں سننے کے بعد دونوں مذاکرات کاروں نے کہا یہ تبادلہ خیال کل پھر جاری رہے گا۔

شاہین باغ میں گزشتہ 68 دنوں سے شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف جاری عالمی شہرت حاصل کر چکے دھرنا و مظاہرہ میں 19 فروری کا دن بہت خاص رہا کیونکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ مذاکرہ کار سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن بات چیت کرنے پہنچے۔ سب سے پہلے وکیل سنجے ہیگڑے نے سپریم کورٹ کے حکم کو انگریزی میں پڑھ کر مظاہرین کو سنایا اور اس کے بعد وکیل سادھنا رام چندرن نے اس کا ہندی میں مطلب اختصار کے ساتھ سمجھایا۔ سادھنا نے لوگوں سے کہا کہ سپریم کورٹ نے سب سے بڑی جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ مظاہرہ کرنا ان کا حق ہے اور یہ حق ان سے چھینا نہیں جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ سڑک بند ہونے سے جو پریشانیاں دوسرے لوگوں کو ہو رہی ہیں، اس کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے تاکہ دوسروں کے حقوق بھی نہ چھینے جا سکیں۔جاری رہے گا

سادھنا رام چندرن نے لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے کہا کہ ’’ہم آپ کے ساتھ ہر طرح کی بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور بات چیت سے ہی ہم ایسا حل نکالیں گے جو دنیا کے لیے مثال بنے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کے ساتھ ان کی جو بات چیت ہوگی اس میں میڈیا کے لوگ موجود نہیں ہوں۔ لیکن مظاہرہ میں شامل کئی لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ میڈیا کے سامنے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ یقین دلائے جانے کے بعد کہ میڈیا کو وہ بعد میں تفصیل بتا دیں گی، میڈیا اہلکاروں کو اس ٹینٹ سے دور کر دیا گیا جہاں خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں۔

بعد ازاں مذاکرہ کاروں نے مظاہرین سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا۔ وہاں موجود شاہین باغ کی ایک ’دادی‘ نے اپنی بات سادھنا رام چندرن کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے صرف ایک روڈ بند کیا ہے۔ باقی روڈ پولس والوں نے بند کیے ہیں، تو ان سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا۔‘‘ ایک دیگر خاتون نے کہا کہ ’’ہم یہاں آئین کی حفاظت کے لیے بیٹھے ہیں اور جب تک سی اے اے واپس نہیں لے لیا جاتا، ہم اپنا مظاہرہ ختم نہیں کریں گے۔‘‘ مظاہرین بار بار پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور عوام کے مسائل سے منھ پھیرنے کی بات سنجے ہیگڑے و سادھنا رام چندرن سے کہتے ہوئے نظر آئے۔ مظاہرہ میں شامل ایک شخص نے جامعہ طلبا کے خلاف دہلی پولس کی کارروائی اور جامعہ و شاہین باغ مظاہرہ میں ہوئی فائرنگ کا ایشو اٹھایا اور کہا کہ ان سب کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ ’’ہم نے جب انگریزوں کو نکال باہر کیا تو پھر یہ (مودی-شاہ) کون ہیں، ہم انھیں بھی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھائیں گے۔‘‘ ایک بزرگ خاتون نے سادھنا رام چندرن سے کہا کہ ’’روڈک بلاک ہونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا بڑا مسئلہ سی اے اے نافذ ہونے کے بعد ہم لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔‘‘

مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نے مذاکرہ کاروں کے سامنے مظاہرین کے مسائل سامنے رکھا اور کہا کہ جس مشکل حالات میں خواتین یہاں پر بیٹھی ہیں، اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ لیکن سبھی خواتین اپنے حق کی لڑائی لڑ رہی ہیں اور وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ ’’ہم یہاں سرد راتوں میں بیٹھے رہے، کوئی سننے نہیں آیا ہے۔ دو مہینے سے گھر چھوڑ کر بچوں کے ساتھ عورتیں ہر وقت بیٹھی رہتی ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب کوشش ہو رہی ہے کہ اس مظاہرہ کو ختم کیا جائے تاکہ شاہین باغ کی طرح دوسری ریاستوں میں جو مظاہرے شروع ہوئے ہیں، انھیں بھی ختم کیا جا سکے۔ لیکن ہم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک مودی حکومت سی اے اے واپس لینے کا وعدہ نہ کرے۔‘‘

Published: 19 Feb 2020, 5:11 PM