پارٹی لیڈروں پر پھوٹا ملائم کا غصہ، سماجوادی پارٹی میں بڑی تبدیلی ممکن

لوک سبھا انتخاب میں ملی شکست کے بعد اکھلیش یادو تنظیم میں بڑی تبدیلی کر سکتے ہیں۔ ریاستی صدر کے ساتھ دیگر یونٹوں کے سربراہان اور ضلعی صدور کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخاب میں ملی شکست کے بعد سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے پیر کو لکھنؤ میں پارٹی صدر میں پارٹی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میں ایس پی کے سینئر لیڈر ملائم سنگھ یادو بھی موجود رہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق شکست کے بعد اکھلیش یادو پارٹی تنظیم میں بڑی تبدیلی کر سکتے ہیں۔ ریاستی صدر کے ساتھ دیگر یونٹوں کے سربراہوں اور ضلعی صدور کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ابھی فی الحال شکست کے اسباب تلاش کیے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخاب میں منفی کردار نبھانے والے کچھ لیڈروں پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابھی سے اکھلیش 2022 کے اسمبلی انتخاب اور 11 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب سے پہلے تنظیم کو چست درست کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ پارٹی کے ایک پرانے کارکن نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر بتایا کہ اب تنظیم کا ڈھانچہ ملائم سنگھ جیسے دور کے مطابق ہونے پر گفتگو ہوئی۔ اس میں اعلیٰ ذات، پسماندہ ذات اور اقلیتوں کے مشہور چہروں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

سماجوادی پارٹی ترجمان راجندر چودھری کے مطابق ’’ایس پی سربراہ اکھلیش یادو لوک سبھا انتخاب کے نتائج برآمد ہونے کے بعد سے ہی مختلف لوک سبھا حلقوں میں امیدوار رہے لیڈروں اور ان کے پولنگ ایجنٹوں و کارکنان سے ملاقات کر کے لوک سبھا انتخاب کے نتیجوں پر لگاتار تجزیہ کر رہے ہیں۔‘‘

راجندر چودھری نے بتایا کہ اکھلیش نے کارکنان سے کہا کہ وہ لوک سبھا انتخاب میں ملی شکست سے مایوس ہونے کی جگہ زمینی سطح پر تنظیم کو مضبوط بنائیں اور سال 2022 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخاب کی تیاری کریں۔ اس سوال پر کہ لوک سبھا انتخاب میں ملی شکست کے بعد ایس پی بانی ملائم سنگھ یادو سے اکھلیش کی کوئی بات چیت ہوئی ہے؟ چودھری نے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے بارے میں کسی طرح کی گفتگو کو لے کر پوچھے گئے سوال پر چودھری نے کچھ بھی بولنے سے منع کر دیا۔ غور طلب ہے کہ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے باوجود سماجوادی پارٹی کو محض پانچ سیٹیں ہی ملی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ایس پی کا قلعہ کہے جانے والے قنوج، بدایوں اور فیروز آباد میں فیملی کے رکن انتخاب ہار گئے۔