ایودھیا میں سنگھ کی نماز تقریب کو سادھوؤں نے بتایا ڈھونگ

رمضان چودھری نے کہا، ’’ان کے کچھ لوگ ٹی وی پر ڈبیٹ کرتے ہیں اور کچھ مندر مسجد کے لئے دعا کرتے ہیں، یہ سب کھیل کا حصہ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو 2019 کی جیت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘

آر ایس ایس (راشٹریہ سوم سیوک سنگھ) کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے جمعرات کو ایودھیا میں سریو ندی کے ساحل پر اجتماعی نماز ادا کرنے کی جس تقریب کے انعقاد کا اعلان کیا تھا اسے آخری لمحات میں منسوخ کرنا پڑا۔ بعد میں تقریب کے مقام کو تبدیل کر کے ایک مزار کے پاس نماز ادا کی گئی۔

جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ ایودھیا میں سریو ندی کے ساحل پر آر ایس ایس کی طرف سے اجتماعی نماز ادا کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ویسے ہی اس پر رد عمل ظاہر کیا جانے لگا۔ کہا گیا کہ آر ایس ایس اپنی مسلم مخالف شبیہ کو توڑنے کے لئے اس تقریب کا انعقاد کروا رہی ہے۔ حالانکہ بعد ازاں آر ایس ایس کی طرف سے اس تقریب کے انعقاد سے انکار کر دیا گیا۔ آر ایس ایس کے ٹوئٹر ہینڈل سے باقائدہ ٹوئٹ کر کے اس کی تردید کی گئی۔

آر ایس ایس اور بی جے پی 2019 کے انتخابات کے پہلے اپنے حربوں کی شروعات کر چکے ہیں۔ مسلم ناموں والے ان کے حامی ان حربوں میں پوری طرح ان کے ساتھ ہی۔ آر ایس ایس کے پٹھو کبھی کسی بی جے پی کے رہنما کو ٹوپی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ٹوپی کے ساتھ پوری قوم کی توہین کرواتے ہیں اور کبھی وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ سریو ندی کے ساحل پر وضو کیا جائے، اجتماعی نماز ادا کی جائے گی اور قرآن کریم کی تلاوت کی جائے گی۔ بعد میں آر ایس ایس اور ہندو پرست رہنما ان کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے ہندو ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آر ایس ایس کو دراصل ہر وقت کوئی مسلم دشمن چاہئے جس پر وہ بھڑاس نکال سکیں اور ہندوؤں کو خوش کر سکیں۔ 
سریو ندی پر اجتماعی نماز کی تقریب منسوخ ہونے کے باوجود کچھ خواتین وہاں پہنچی اور وضو کیا، پھر وہ مزار پر ہوئی تقریب میں شامل ہویئں۔

تقریب کا انعقاد کرنے والی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کی اودھ صوبہ کی اکائی کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد رام مندر کی تعمیر کے لئے دعا مانگنا تھا۔ اس میں مدعو کئے گئے مسلم علماء سریو ندی کے ساحل پر وضو کرتے، نماز ادا کرتے اور قرآن کی آیات کی تلاوت کرتے۔

مسلم راشٹریہ منچ کی تقریب کی مخالفت ہنومان گڑھی کے سادھو راجو داس، شیو سینا کے رہنما سنتوش دوبے اور ہندو پرست رہنما کملیش تیواری نے کی تھی۔ جس کے بعد تقریب کو منسوخ کر دینا پڑا۔ مسلم راشٹریہ منچ سے وابستہ رضا رضوی نے کہا کہ وہ کوئی تنازعہ نہیں چاہتے تھے۔ وہ تو مندر تعمیر کے لئے پر امن حل نکالا جا سکے اس کے لئے دعا کرنا چاہتے تھے۔ تقریب کا مقام تبدیل کرنے کے سوال پر وہ کہتے ہیں کہ کوئی ٹکراؤ نہ ہونے پائے اس لئے انہوں نے خود ہی سریو کے ساحل پر تقریب کو منسوخ کر دیا۔

مسلم راشٹریہ منچ کے ہی ببلو خان اپنے حامیوں کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’بھگوان رام کی پیدائش کی جگہ ایودھیا میں رام جنم بھومی کے لئے وہ دعا کرنے آئے ہیں۔ قرآن کی آیات کی تلاوت کر کے ہم مندر تعمیر کی راہ میں آنے والے کانٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس تقریب کی مخالفت کرنے والے ہنومان گڑھی کے سادھو راجو داس نے کہا، ’’سریو میں وضو کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ یہ سب ایک سیاسی ڈرامہ ہے اور صرف سیاسی روٹنی سینکنے کا عمل ہے۔‘‘

ہریانہ کے میوات سے وابستہ سماجی کارکن رمضان چودھری نے اس تعلق سے قومی آواز سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ڈھونگ کی شروعات کر دی ہے یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک مزار پر ٹوپی پہنانے کی کوشش کرنا اور ان کا ٹوپی پہنانے کی کوشش کرنے والے کا ہاتھ جھٹک دینا اور اب ایودھیا کی سریو ندی کے ساحل پر نماز کا اعلان کرنا اور بعد میں ہندووادیوں کی طرف سے ہی اس کی مخالفت کرنا، یہ سب ان کے کھیل کا حصہ ہے۔

رمضان چودھری نے کہا، ’’آر ایس ایس اور بی جے پی کے اس کھیل کے مختلف کردار ہیں۔ کچھ وہ لوگ ہیں جو ٹی وی پر بیٹھ کر ڈبیٹ کرتے ہیں اور کچھ لوگ مندر مسجد کے لئے دعا کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ بھلا یہ بتائیں کیا مندر یا مسجد کو کسی کی دعا کی ضرورت ہوتی ہے!‘‘ رمضان نے مزید کہا، ’’یہ تو کھیل کی شروعات بھر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جیت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول