نوراتری کے پاکیزہ تہوار کو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا ہتھیار بنایا جا رہا، بی جے پی-آر ایس ایس ملک کو جھلسانے میں مصروف!

نوراتری کے پاکیزہ تہوار کے نام پر ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھلسانے کی آر ایس ایس-بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آواز تجزیہ

چیتر نوراتری یعنی 9 دن تک چلنے والی ’شکتی کی اپاسنا‘ (طاقت کی پوجا)، جشن کا تہوار... اسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے ہندو کیلنڈر کا نیا سال۔ گزشتہ کئی سال سے ہندوؤں کے پاکیزہ تہوار چیتر نوراتری کے ساتھ ہی مسلمانوں کا ماہِ مبارک رمضان بھی شروع ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ابھی 2 اپریل کو ہی پورے ملک کو رمضان کی مبارکباد دی تھی، لیکن آر ایس ایس اور اس سے جڑی تنظیم، اور ان کی پارٹی بی جے پی کے لوگ ہی وزیر اعظم کو غلط ثابت کرنے میں لگے ہیں۔

وزیر اعظم کی ’نیک خواہشات‘ کو درکنار کرتے ہوئے کہیں مسجدوں پر حملہ کیا گیا تو کہیں گوشت بیچنے پر روک لگانے کے بہانے مسلمانوں کو استحصال کا شکار بنایا گیا، تو کہیں پر فساد بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس پورے پیٹرن میں ایک خاص بات یہ دیکھی گئی کہ ان ریاستوں کو خصوصی طور سے نشانہ بنایا گیا ہے جہاں آنے والے وقت میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

آئیے نوراتری کے پاکیزہ تہوار کے نام پر ہندوتوا کا پروپیگنڈہ کرنے اور ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھلسانے کی آر ایس ایس، بی جے پی اور دوسری تمام رائٹ وِنگ تنظیموں کی کوششوں کا لیتے ہیں سرسری جائزہ۔


راجستھان: پہلے کرولی، پھر بیاور

نوراتری کے بہانے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی سب سے خطرناک کوشش کی گئی راجستھان میں۔ راجستھان میں اگلے سال دسمبر تک اسمبلی کے انتخاب ہونے ہیں۔ ماہرین مانتے ہیں کہ ہندو سالِ نو کے نام پر بائٰک پر ریلی نکالنے اور مبینہ طور پر مسجدوں پر حملہ اسی کے مدنظر کیا گیا تھا۔

پہلا واقعہ ہوا راجستھان کے کرولی میں جہاں ہفتہ کو آر ایس ایس اور اس سے جڑی تنظیموں نے ہندو سالِ نو کے موقع پر بائک ریلی نکالی۔ ریلی قصداً مسلم اکثریتی علاقوں سے نکالی گئی تھی تاکہ ماحول کو فرقہ وارانہ بنایا جا سکے۔ ریلی کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے جس کے بعد دونوں گرپوں میں تصادم بھی ہوا۔ آگ زنی اور پتھر بازی کی وجہ سے کئی زخمی ہوئے۔ کروڑوں کی ملکیت جل کر خاک ہو گئی۔

ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ہاتھ میں بھگوا لہراتے ہوئے نوجوانوں کا ایک گروپ مسجد میں توڑ پھوڑ کرتا نظر آیا۔ گہلوت حکومت نے فوراً کارروائی کی اور علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ معاملے کی حساسیت کی وجہ سے ہم وہ ویڈیو قصداً شیئر نہیں کر رہے ہیں۔

دوسرا واقعہ اجمیر کے بیاور میں ہوا جہاں مشتعل بھیڑ نعرے بازی کرتی نظر آئی۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے ایک شخص کی موت ہو گئی اور اس کے دو بیٹے زخمی ہو گئے۔ وزیر اعلیٰ گہلوت نے دونوں معاملوں پر سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ امن بحالی کے لیے ایک اپیل جاری کریں، لیکن بی جے پی نے اس معاملے پر سیاست تیز کر دی ہے۔


مدھیہ پردیش: کئی اضلاع میں کشیدگی

مدھیہ پردیش میں حالانکہ بی جے پی کی ہی حکومت ہے، لیکن آر ایس ایس اور اس کے کارکنان فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے آبائی ضلع میں کھیل کو لے کر پیدا ہوئے معمولی تنازعہ کو بڑے فساد کی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ 19 مارچ کو ہوئے اس واقعہ میں قبائلی طبقہ کے دو لوگوں کی موت بھی ہو گئی۔ 16 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں سے 13 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسرا واقعہ جبل پور ضلع کا ہے جہاں آر ایس ایس کا جھنڈا اتارنے گئے سرکاری افسر کو آر ایس ایس کے کارکنان نے دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ ہندو سالِ نو کی شروعات میں آر ایس ایس ہر جگہ، گھر سے لے کر بازار تک بھگوا جھنڈے لگاتے ہیں۔ اتوار کو جب میونسپلٹی کے افسر جھنڈے اتارنے لگے تو آر ایس ایس کے کارکنان نے انھیں دوڑا کر پیٹا۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان کے کے مشرا کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اگلے سال اسمبلی کا انتخاب ہونا ہے، اس کے بعد لوک سبھا کا انتخاب بھی ہونا ہے۔ آر ایس ایس-بی جے پی نے ابھی سے ماحول کو خراب کرنا شروع کر دیا ہے۔


اتر پردیش: گوشت کی فروخت کو لے کر ہنگامہ

چیتر نوراتری کے تہوار کو اتر پردیش میں بھی فرقہ واریت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ باقاعدہ فرمان جاری کر کے دہلی سے ملحق نوئیڈا اور غازی آباد میں مندروں کے آس پاس گوشت کی فروخت بند کروا دی گئی ہے۔ لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بہانے مسلمانوں کے پورے معاشی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حالانکہ اتر پردیش، محکمہ اطلاعات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نونیت سہگل کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی فرمان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سہگل نے کہا کہ جن اضلاع (نوئیڈا، غازی آباد) سے اس طرح کی رپورٹس آ رہی ہیں، وہاں کے ضلع انتظامیہ سے اس بارے میں صفائی مانگی جانی چاہیے۔

انگریزی رسالہ ’کارواں‘ میں کام کرنے والے ایک صحافی جو نوئیڈا میں رہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوگ کیا کھاتے یا پہنتے ہیں، یہ طے کرنے کا اختیار ان کا ہونا چاہیے نہ کہ حکومت کے پاس۔

اُدھر مغربی اتر پردیش کے ایک دیگر ضلع میں ’ویج بریانی‘ فروخت کر رہے ایک شخص کا ٹھیلہ کچھ بھگوادھاریوں نے یہ کہہ کر پلٹ دیا کہ وہ گوشت فروخت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ غازی آباد میں مقامی انتظامیہ کے افسر کھلے عام گوشت فروخت کرنے والوں کو دھمکاتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر دکان کھولی تو بلڈوزر چلوا دیا جائے گا۔


کرناٹک: حجاب، حلال اور مسجد کا لاؤڈاسپیکر

اڈوپی میں حجاب تنازعہ سے شروع ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کی لہر نوراتری کے موقع تک آتے آتے ’حلال تنازعہ‘ میں بدل چکی ہے۔ کرناٹک میں حلال تنازعہ کی شروعات ہوئی 30 مارچ کو جب بجرنگ دل کے کچھ کارکنان نے حلال گوشت کے خلاف تشہیر کرنا شروع کیا۔ اس دوران انھوں نے ایک مسلم گوشت دکاندار توصیف کو دھمکایا اور مار پیٹ بھی کی۔ ہندووادی تنظیم کے کارکنان تب سے ہی حلال میٹ کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ کرناٹک میں بھی راجستھان اور مدھیہ پردیش کی طرح اگلے سال انتخاب ہونے ہیں۔

حالانکہ اس مہم کا کچھ خاص اثر نہیں ہو رہا ہے۔ میسور ضلع میں سماجی کارکنان اور مصنفین نے مسلم دکانداروں سے اتوار کو حلال گوشت خرید کر اس کے خلاف مظاہرہ کیا۔

ابھی حلال گوشت کا تنازعہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ ’شری رام سینا‘ اور ’بجرنگ دل‘ کے کارکنان نے حکومت سے اپیل کر دی کہ مسجدوں میں بجنے والے لاؤڈاسپیکر کو بند کیا جائے۔ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے لیے بدنام پرمود متھالک کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر مسجدوں مین لاؤڈاسپیکر بند نہیں کیا گیا تو مہاراشٹر کی طرح ہندو تنظیمیں مسجدوں کے سامنے اذان اور نماز کے وقت لاؤڈاسپیکر لگا کر ’جئے شری رام‘ اور ’اوم نمو شوائے‘ کا وِرد کریں گے۔


مہاراشٹر: مسجد کے لاؤڈاسپیکر پر اعتراض

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک طرح کا ’وَن واس‘ گزار رہے راج ٹھاکرے اچانک سرگرم دکھائی دیئے اور حکومت سے اپیل کی کہ مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر کا استعمال بند ہونا چاہیے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا چیف نے دھمکی دی کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہندو مسجد کے سامنے لاؤڈاسپیکر لگا کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ (وِرد) کریں گے۔ ان کے کارکنان نے کچھ جگہ ایسا کیا بھی۔

ماہرین کے مطابق راج ٹھاکرے نے یہ بیان بی جے پی کے اشارے پر دیا تھا۔ شیوسینا ترجمان اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے راج ٹھاکرے پر نشانہ سادھا اور کہا کہ راج ٹھاکرے کا بیان اسپانسرڈ تھا۔

دہلی: بی جے پی حکمراں ایم سی ڈی کو گوشت کی فروخت پر اعتراض

ملک کی راجدھانی دہلی میں نوراتری کے نام پر فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی کوششیں جاری ہیں۔ حالانکہ یہاں حکومت عام آدمی پارٹی کی ہے، لیکن میونسپل کارپرویشن آف دہلی (ایم سی ڈی) میں بی جے پی کا قبضہ ہے۔ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے پیر کو باقاعدہ حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نوراتری تک گوشت کی دکانیں بند رکھی جانی چاہئیں۔ میئر مکیش سوریان نے افسران سے کہا ہے کہ عوام کے جذبات کو دھیان میں رکھتے ہوئے 2 اپریل سے لے کر 11 اپریل تک علاقے میں موجود گوشت کی دکانوں کو بند کروایا جائے۔


حال ہی میں مرکزی حکومت نے کارپوریشن الیکشن سے عین پہلے دہلی میونسپل کارپوریشن امینڈمنٹ بل-2022 پاس کیا ہے جس کا مقصد دہلی کے سبھی الگ الگ میونسپل کارپوریشن کو ملا کر ایک کرنا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ قدم دہلی میں عآپ حکومت کو چیلنج دینے اور بی جے پی کی حالت مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */