’مودی کا سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، محض ایک دھوکہ‘

دہلی کانگریس کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل سرفراز احمدصدیقی نے کہا کہ 58 رکنی وزارتی کونسل میں صرف مختار عباس نقوی کو وزیر بنایا گیا ہے جبکہ وہ کئی مسلمانوں کو نمائندگی دے سکتے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: مرکزی کابینہ میں اقلیتوں کو نظر انداز کرنے پرمودی حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل سرفراز احمدصدیقی نے کہاکہ مودی کاسنٹرل ہال میں کئے گئے عہد سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ سب کا وشواس محض ایک دھوکہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں کہا تھا کہ اقلیتوں میں خوف پیدا کیا گیا ہے اور اسے نکالنے کی ضرورت ہے اور وہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے فارمولے پر کام کریں گے اور اقلیتوں کا اعتماد جیتیں گے اور ان سے ڈر نکالیں گے لیکن گزشتہ رات تشکیل دی گئی مرکزی کابینہ میں محض ایک مسلمان کو جگہ دی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی کا کیا گیا وعدہ بھی جملہ ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 58 رکنی وزارتی کونسل میں صرف مختار عباس نقوی کو وزیر بنایا گیا ہے جب کہ وہ کئی مسلمانوں کو نمائندگی دے سکتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ ملک کی اتنی بڑی اقلیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس طرح کا سلوک کرکے مسلمانوں کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کابینہ مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دیکر مسلمانوں کا دل جیت سکتی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس کے علاوہ کسی پارٹی نے مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی ہے اور کانگریس ہی مسلمان سمیت تمام طبقات کا بہتر انداز میں خیال رکھ سکتی ہے۔

انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دینا ہی نہیں چاہتی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا سنٹر ل ہال میں دیا گیا بیان محض ایک بیان ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

next