مولانا اصغر سلفی کے بیان پر ہنگامہ... ’بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں‘

مولانا اصغر سلفی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کا غصہ ابھر کر سامنے آ گیا، انہوں نے کہا کہ اصغر سلفی کے بیان سے لوگوں میں اہل حدیث طبقہ کے بارے میں غلط پیغام پہنچا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مختلف قسم کے رد عمل سامنے آئے ہیں جہاں کچھ لوگوں نے محتاط انداز میں فیصلہ کے کئی نکات پر سوال اٹھائے وہیں کچھ لوگوں نے اس کو تاریخی فیصلہ قرار دے کر اس کی جم کر تعریف کی۔ تعریف کرنے والوں میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولانا اصغر علی سلفی بھی ہیں اور ان کے تعریف کرنے کے انداز پر ایک بڑا طبقہ ناراض ہے۔

بابری مسجد اور رام مندر مسئلہ پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ کے بعد مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کے ذریعہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور ہندو-مسلم اتحاد کی مثال پیش کرنے کے لیے متعدد بیانات منظر عام پر آئے۔ ان بیانات میں جہاں کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے فیصلہ کے کئی نکات پر سوال اٹھائے وہیں کچھ لوگوں نے اس فیصلہ کو تاریخی قرار دےکر اس کی جم کر تعریف کی۔ ان بیانات کے درمیان مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صدر مولانا اصغر علی سلفی کا بھی ایک بیان سامنے آیا جو کافی تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ مولانا اصغر سلفی کا یہ بیان سپریم کورٹ کے ذریعہ بابری مسجد پر فیصلہ صادر کیے جانے کے بعد قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کی رہائش پر ہوئے کئی اہم ہندو اور مسلم مذہبی لیڈروں کی میٹنگ کے بعد سامنے آیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’نہ یہ ہندو کی جیت ہے نہ مسلمان کی جیت ہے۔ یہ بھارت کی جیت ہے، بھارتیوں کی جیت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ ’’مصر والوں کو بہت فخر ہے کیونکہ کہا جاتا ہے ’مصر ام الدنیا‘ یعنی مصر دنیا کی ماں ہے۔ ہم لوگ کہتے ہیں ’والہند اب الدنیا‘ یعنی بھارت جو ہے وہ دنیا کا باپ ہے اور اس (سپریم کورٹ کے) تاریخی فیصلہ نے یہ ثابت کر دیا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسلم طبقہ نے پہلے ہی دن سے بصد احترام قبول کیا اور سنی وقف بورڈ ہو یا پھر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، یا جمعیۃ علماء ہند، سبھی نے باضابطہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف عدالتی فیصلے کا احترام کریں بلکہ ہندو بھائیوں کے ساتھ محبت و بھائی چارے کا مظاہرہ بھی کریں کیونکہ ایودھیا کی زمین رام مندر تعمیر کے لیے بھلے ہی دے دی گئی ہو، اس سے ہندوستان کی شناخت بن چکے ہندو-مسلم اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں پہنچنا چاہیے۔ ساتھ ہی مسلم تنظیموں کے کئی ذمہ داران نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سپریم کورٹ کی کچھ باتوں پر اپنی مایوسی کا بھی اظہار کیا، لیکن جس طرح مولانا اصغر سلفی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہارِ خوشی کرتے ہوئے ہندوستان کو دنیا کا باپ ٹھہرایا، اس پر ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ سلفی طبقہ بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھا رہا ہے۔

’قومی آواز‘ نے جب اہل حدیث طبقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں سے مولانا اصغر سلفی کے بیان پر رد عمل جاننا چاہا تو ان کا غصہ ابھر کر سامنے آیا۔ جمعیۃ اہل حدیث (علی گڑھ) کے نائب امیر رفیق احمد سلفی نے مولانا اصغر سلفی کی باتوں پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کچھ تنظیموں کے جو بیانات تھوڑے اعتراضات کے ساتھ سامنے آئے ہیں وہ زیادہ معتدل ہیں۔ اصغر صاحب کا بیان ان کا ذاتی بیان ہو سکتا ہے، یہ جمعیت کے کسی ذمہ دار کا بیان تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اس وقت ہماری تنظیم کی کوئی گرفت ہمارے عوام پر نہیں ہے۔ مولانا اصغر صاحب ہمارے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انھوں نے اپنے ہم خیال لوگوں کی جو کابینہ یا شوریٰ بنا رکھی ہے، اور وہ الیکشن جیت لیتے ہیں، اس سے بہت سے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ مولانا اصغر کا بیان جمعیت اہل حدیث کا بیان ہے، وہ دھوکے میں ہیں۔‘‘

رفیق احمد سلفی نے ’قومی آواز‘ کے نمائندہ کو یہ بھی بتایا کہ ’’اس وقت ہمارے علماء اور نوجوان یہی بحث کر رہے ہیں مولانا اصغر ہمارے نمائندہ نہیں ہیں اور ان کے بیان سے لوگوں میں اہل حدیث طبقہ کے بارے میں غلط پیغام پہنچا ہے۔ دوسرے مسلم طبقہ کے افراد مولانا اصغر کے موقف سامنے رکھ کر سلفیوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ٹرول کر رہے ہیں۔ ‘‘ رفیق احمد سلفی نے مولانا اصغر کے بیان کو ان کا ذاتی بیان ثابت کرنے کے لیے یہ حوالہ بھی دیا کہ ’’ہمارے (مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند) دستور میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی ملکی یا ملی سطح کا مسئلہ ہے تو امیر اور ناظم اس پر شوریٰ اور عاملہ کی میٹنگ بلائیں گے اور پھر جو متفقہ فیصلہ ہو، اس کے مطابق بیان دیں۔ اگر کوئی بیان بغیرمجلس شوریٰ کی میٹنگ کے سامنے آتا ہے تو وہ ذاتی بیان ہوگا، نہ کہ ہندوستان کے اہل حدیثوں کا بیان کہا جائے گا۔ مولانا اصغر نے جو بیان دیا ہے وہ بھی کسی میٹنگ کے بعد طے کیا ہوا بیان نہیں ہے۔‘‘

دہلی کے مشہور علاقہ اوکھلا میں رہنے والے معروف سماجی کارکن اور کم و بیش ایک درجن دینی و مذہبی کتابوں کے مصنف اسلم بابر بھی مولانا اصغر کے بیان سے کافی نالاں نظر آئے۔ انھوں نے ’قومی آواز‘ سے کہا کہ’’ہم کسی حکومت کے خلاف نہیں بولنا چاہتے، لیکن ہمیں بھی قوم و ملت کی فکر ہے۔ اصغر سلفی صاحب نے عدالت عظمیٰ کے بابری مسجدوالے فیصلہ پر ’والہند اب الدنیا‘ کا جو بیان دیا ہے، اس سے ہم اتفاق نہیں رکھتے۔ انھیں چاہیے تھا کہ وہ اپنے عہدے کا وقار قائم رکھتے ہوئے بیان دیتے۔ معلوم نہیں کہ انھوں نے کس حالت میں اور کس مجبوری میں اس طرح کا بیان دیا، لیکن ان کا بیان قطعی جمعیت اہل حدیث کا بیان نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’ایک ہوتا ہے انصاف، اور ایک ہوتا ہے فیصلہ۔ ہم ڈیموکریسی میں رہتے ہیں جہاں فیصلہ صادر ہوتا ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔ انصاف اور فیصلے کے درمیان کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔‘‘

کل ہند جمعیت اہل حدیث کونسل کے بانی رضوان ریاضی تو مولانا اصغر سلفی کے بیان سے اس قدر ناراض ہیں کہ ان سے معافی مانگنے تک کا مطالبہ کر ڈالا ہے۔ ’قومی آواز‘ سے رضوان ریاضی نے کہا کہ ’’مولانا (اصغر سلفی) کے ذریعہ ہندوستان کو دنیا کا باپ بتائے جانے سے پورے ہندوستان کا اہل حدیث طبقہ غم و غصے کے ماحول میں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ہم سب سلام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان دنیا کا باپ ہے، یہ کہنا غلط ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سپریم کورٹ خود کہتا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنایا گیا۔ سپریم کورٹ ہی کہہ رہا ہے کہ بابری مسجد توڑنا غلط تھا۔ جو فیصلہ آیا ہے اس پر عمل کرنا اور ہندو-مسلم اتحاد کو فروغ دینا اچھی بات ہے، لیکن جو بھی بیان دیا جانا چاہیے وہ حقیقت کے آئینے میں ہونا چاہیے۔ مولانا اصغر کے بیان سے سارے ہندوستان کے اہل حدیثوں کا سر خم ہو گیا ہے۔‘‘

رضوان ریاضی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک حدیث کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ان کے پاس فیصلہ کرانے آیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سناتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے پاس دو گروپ آتا ہے مدعی اور مدعہ علیہ۔ اس مین ایک گروپ کیا کرتا ہے کہ اپنے الفاظ کے پیچ و خم میں الجھا کر اور اپنی چرب زبانی کی بنیاد پر وہ اپنے حق میں فیصلہ لیتا ہے، جب کہ وہ ناحق فیصلہ ہوتا ہے۔ اور دلوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ یہ حدیث ہے۔‘‘ اس حدیث کے ذریعہ رضوان ریاضی نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ کئی بار دلیل اور ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ انصاف نہیں کہلاتا۔

بہر حال، مولانا اصغر سلفی کے بیان پر لوگ جب بھی باتیں کر رہے ہیں، ان کی مخالفت ہی ہو رہی ہے۔ کئی لوگ انھیں ملت اسلامیہ کا دشمن ٹھہرا رہے ہیں تو کئی انھیں مشورہ دے رہے ہیں کہ اب چاہیے کہ وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث سے کنارہ ہو جائیں۔ اس پورے ماحول کو دیکھ کر تو بس اب سر علامہ محمد اقبال وہ اشعار یاد آ رہے ہیں جس میں انھوں نے قائدین ملت اور مرشدانِ خود بیں کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حالات پر آنسو بہائے تھے۔ آپ بھی علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھیے اور سر دھنیے..

کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا

کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں

یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے

ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں

غضب ہیں یہ ’مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!

بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزّت بنا رہے ہیں

سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے

نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!

Published: 17 Nov 2019, 6:11 PM