دہلی اسمبلی سرمائی اجلاس کے پہلے ہی روز ہنگامہ، اسپیکر کے حکم پر ایوان سے باہر نکالے گئے اے اے پی کے اراکین
دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن لیڈر آتشی کی قیادت میں عام آدمی پارٹی نے دہلی میں بگڑتی ہوئی آلودگی کی صورتحال اور ریکھا گپتا حکومت کے ذریعہ ڈیٹا چوری کے خلاف احتجاج کیا۔

دہلی اسمبلی کا سرمائی اجلاس آج یعنی پیر سے شروع ہوگیا اور اس سلسلے میں جو اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا آخر کاروہی ہوا۔ اسمبلی اجلاس کے پہلے روز اپوزیشن عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف کے خطاب کے دوران ہی ہنگامہ کردیا۔ جس کے بعد اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتانے کچھ اپوزیشن ممبران اسمبلی کو باہر لے جانے کا حکم دیا مگر اسی دوران پورے اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا۔ ایوان سے باہر جانے کے بعد ممبران اسمبلی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے پاس دھرنا دے دیا۔
اے اے پی کے ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے خطاب کے دوران آلودگی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ قبل ازیں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے درمیان روک ٹوک کررہے ممبران اسمبلی سنجیو جھا، جرنیل سنگھ، کلدیپ کمار، سوم دت کو اسپیکر نے باہر لے جانے کے احکامات دیئے۔ اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے کہا کہ انہیں اسمبلی سے اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ماسک پہن کر اندر گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں لوگ زہریلی آلودگی سے مر رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کو جواب دینا چاہیےمگر دہلی کی بی جے پی حکومت آلودگی کے حوالے سے غلط اعداد و شمار دے رہی ہے۔
آتشی نے کہا کہ دہلی کے لوگ 4 مہینوں سے سانس نہیں لے پارہے ہیں، بچوں کا دم گُھٹ رہا ہے، ایمس کے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ دہلی میں لوگوں کا جینا مشکل ہے حالانکہ دہلی حکومت ڈیٹا چوری کر رہی ہے، جی آر اے پی صحیح طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دہلی کے لوگوں کے مسائل دکھانے کے لیے اے اے پی کے ممبران اسمبلی انڈسٹریل ماسک پہن کر اسمبلی آئے ہیں۔
پیر کے روز اسمبلی اجلاس شروع ہونے سے پہلےبھی اے اے پی نے احتجاج کیا۔ عام آدمی پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن لیڈر آتشی کی قیادت میں عام آدمی پارٹی نے دہلی میں بگڑتی ہوئی آلودگی کی صورتحال اور ریکھا گپتا حکومت کے ذریعہ ڈیٹا چوری کے خلاف احتجاج کیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔