’’جے شری رام ‘‘ کے نعروں سے نہ تو نیتا جی کا احترم ہوتا ہے، نہ بھگوان رام کا: آر ایس ایس

آر ایس ایس کے ایک لیڈر نے کہا کہ ’’جئے شری رام‘‘کے نعرے لگانے والوں کی شناخت ہونی چاہئے ۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نتیاجی سبھاش چندر بوس کی سالگرہ 23 جنوری کو وکٹوریہ میموریل میں منعقد تقریب میں ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے جانے پر آر ایس ایس نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی نعرہ بازی کرنے والوں کی بی جے پی کو شناخت کرنی چاہیے۔اس طرح کی نعرہ بازی سے نہ تو نیتاجی کااحترام ہوا ہے اور نہ ہی ’’بھگوان رام ‘‘ کا۔

خیال رہے کہ وکٹوریہ میموریل میں مرکزی وزارت کلچر و ثقافت کی جانب سے نتیاجی کی 125ویں یوم پیدائش پر تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کا خصوصی پروگرام رکھا گیا تھا۔اس تقریب میں ممتا بنرجی کوبھی مدعو کیا گیا تھا اور جب ممتا بنرجی کو تقریر کرنے کےلئے بلایا گیا تو سامعین میں سے کچھ لوگوں نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے ۔ممتا بنرجی نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہے۔بلکہ حکومت کا پروگرام ہے جو نیتاجی کی جینتی کے موقع پر منعقد کیا گیا اور حکومت کے پروگرام کا اپنا وقار ہوتاہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ نعرے مجھے چڑھانے کےلئے لگائے ہیں مگر دراصل یہ نتیاجی کی توہین کی جارہی ہے ۔اس کے بعد ممتا بنرجی نے تقریر کرنے سے انکار کردیا۔اس کے بعد سے ہی اس پر تنازع ہوگیا ۔


آر ایس ایس نے کہا کہ وہ نیتاجی کی جینتی کے پروگرام میں اس طرح کے نعرہ بازی کی حمایت نہیں کرتے۔اس واقعے میں ملوث لیڈروں کی شناحت ہونی چاہیے۔ بنگال آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری جشنو باسو نے کہاکہ یہ پروگرام نتیاجی کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے منعقد کیا گیا تھا ۔اس پورے معاملے سے آر ایس ایس خوش نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے نعرے بلند کیئے تے انہوں نے نہ تو نیتا جی کا احترام کیا اور نہ ہی رام کا احترام کیا۔ یہ پروگرام نیتا جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جئے شری رام‘‘کے نعرے لگانے والوں کی شناخت ہونی چاہئے ۔بی جے پی کو لازمی طور پر معلوم کرنا چاہئے کہ اس میں کون ملوث تھے ۔یا پھر کوئی سازش تونہیں تھی ۔

خیا ل رہے کہ اس واقعے کے بعد سے ہی ترنمول کانگریس جارحانہ انداز سے اپنے اس بیانہ کو تقویت دینے کی کوشش کررہی ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں کو بنگالی کلچر و تہذیب سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔کل ترنمول کانگریس نے یوم جمہوریہ کے موقع پر شیام بازار میں نیتاجی کی مورتی کے پاس ایک دھرنے کا انعقاد کیا جس میں ترنمول کانگریس کے کئی لیڈروں نے شرکت کی اور کہا کہ بی جے پی بنگال کی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔دوسری جانب ممتا بنرجی نے اپنی بات کا اختتام ’’جے ہند اور ’’جے بنگلہ ‘‘ کا نعرہ لگاکر بنگال کے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کی ۔


اس معاملے میں بایاں محاذ اور کانگریس نے بھی بی جے پی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممتا بنرجی کی ناراضگی جائز ہے ۔ہرایک نعرےکا موقع محل ہوتا ہے ۔جے شری رام کے نعرے لگاکر نیتاجی کی توہین اور بنگالی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ اس نعرے کی وجہ سے ترنمول کانگریس کو فائدہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس لیڈر نے نعرہ لگایا ان کا تعلق بنگال سے نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم مودی کا یہ پروگرام ترتیب دی گیا تھا۔مگر اس طرح کی نعرے بازی سے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے غیر شعوری طور پر ترنمول کانگریس کو ہی فائدہ پہنچادیا گیا ہے۔ممتا بنرجی جو وزیر اعظم کے قریب ہی بیٹھی ہوئیں تھی نے ایک تجربہ کار سیاست داں کے طور فوری طور پر اس نعرے بازی کو اپنے حق میں استعمال کرلیا اور بی جے پی کے تمام منصوبے کو نقصان پہنچادیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔