شہریت قانون پر مسلمانوں کو ’سمجھانے‘ کی آر ایس ایس کی کوشش ناکام، تقریب میں ہوا ہنگامہ

شہریت ترمیمی قانون پر عیسائی طبقہ کو سمجھانے کی کوشش کے بعد آر ایس ایس نے مسلم طبقہ کے ساتھ بات چیت کا منصوبہ بنایا۔ اس کے تحت مسلم راشٹریہ منچ کی طرف سے ایک تقریب منعقد ہوا جو ہنگامے کا شکار ہو گیا۔

تصویر ایشلن میتھیو
تصویر ایشلن میتھیو
user

ایشلن میتھیو

شہریت ترمیمی قانون کو مفید بتانے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس تنظیموں نے لوگوں سے ملاقات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں آر ایس ایس نے عیسائی طبقہ کو سمجھانے کی کوششیں کر چکی ہے اور اب وہ مسلم طبقہ کے ساتھ بات چیت کر کے ان کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی کے تحت آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے ’راشٹریہ علماء کانفرنس‘ کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں کچھ نام نہاد علماء کی شرکت ہوئی۔ میٹنگ کی شروعات ہوتے ہی کئی لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف ہاتھوں میں پرچہ لے کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ تقریب میں آئین مخالف طاقتوں کے خلاف نعرے بازی بھی شروع ہو گئی۔ تقریباً سات آٹھ منٹ تک یہ نعرے بازی چلتی رہی جس کے بعد ہنگامہ کرنے والوں کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا گیا۔

میٹنگ میں حالانکہ اسٹیج پر کچھ نام نہاد علماء کو بٹھایا گیا تھا، لیکن اس ہنگامے کے بعد صرف آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار ہی تقریر کرتے ہوئے نظر آئے۔ علماء حضرات کو بولنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انھیں صرف چہرہ دکھانے کے لیے اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ اپنی تقریر میں اندریش کمار نے بغیر دلائل والی باتوں کو رکھا اور سرسری طور پر یہ کہا کہ ان کی ٹیم نے پرانی دہلی میں ایک سروے کیا ہے جس میں سامنے آیا ہے کہ صدر بازار میں کام کرنے والے تقریباً 3000 مزدوروں میں سے صرف 235 ہی ہندوستانی ہیں باقی بنگلہ دیشی درانداز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے لوگوں کو دہلی کے کچھ دیگر علاقوں میں بھی سروے کے لیے بھیجا اور سامنے آیا کہ نصف سے زیادہ ملازمتیں ان بنگلہ دیشی دراندازوں نے قبضہ میں کر لیا ہے۔ ہم اسی سب کے خلاف ہیں۔‘‘

اس دوران جب اندریش کمار سے پوچھا گیا کہ اس سروے کے اعداد و شمار کہاں ہیں جس کی بنیاد پر وہ یہ بات کہہ رہےہیں، تو ان کا جواب تھا کہ انھیں کسی کو اعداد و شمار دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی میڈیا ادارہ اس پر اسٹوری کرنا چاہتا ہے تو انھیں خود ہی اس پر تحقیق کرنی ہوگی۔ اندریش کمار کے اس جواب سے واضح ہو گیا کہ وہ بھی اسی دلیل کا سہارا لے رہے ہیں جس کی بنیاد پر بی جے پی شہریت قانون اور این آر سی کے احتجاج کو دبانا چاہتی ہے۔ اس تقریب کے جلسہ گاہ میں تقریباً 70 لوگ شامل ہوئے جن میں 30 سے زیادہ ہندو تھے۔ اندریش کمار نے کہا کہ شہریت قانون اور این آر سی سے اقلیتوں کو فائدہ ہوگا اور کسی کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ہمیشہ سے سبھی مذاہب کے لوگوں کو پناہ دیتا رہا ہے۔ پارسی آئے، یہودی آئے، ان سب کو ہم نے اپنایا۔ ان لوگوں کا ان کے مذہب کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ظلم ہو رہا تھا۔ اور اس سے مسلم الگ تھلگ نہیں ہو گئے۔‘‘

اندریش کمار نے دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے ذریعہ کی جا رہی مخالفت کی مذمت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیم کا غلط حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلام میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا پڑوسی بھوکا ہے تو آپ کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘ انھوں نے شاہین باغ کے مظاہرہ کے تعلق سے کہا کہ ’’شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین نے اسلام کی اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ بہادر خواتین نہیں ہیں۔‘‘ ان کی اس بات پر جلسہ میں موجود تقریباً 70 میں سے صرف دو لوگوں نے ہی تالی بجائی۔ لیکن اندریش کمار اسلام کی اس تعلیم کا حوالہ دینا بھول گئے کہ ہر ناانصافی کی مخالفت کرنا لازمی ہے۔

اندریش کمار نے اپنے منھ میاں مٹھو بننے کی بھی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’شاہین باغ کی خواتین کہتی ہیں کہ اگر وزیر اعظم مودی یا وزیر داخلہ امت شاہ آ کر بات کریں تو وہ اپنا دھرنا ختم کر لیں گی، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر ان کے بھائی اندریش کمار ان سے آ کر ملیں گے تو وہ اپنی تحریک واپس لے لیں گی۔‘‘

میٹنگ کے بعد انگریزی نیوز پورٹل ’نیشنل ہیرالڈ‘ نے جلسہ میں موجود تقریباً 15 مسلمانوں سے اس میٹنگ کے بارے میں سوال کیا جن میں سے تقریباً 10 نے کہا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے۔ باقی جن 5 لوگوں نے بات کی انھوں نے تصویر اور نام ظاہر نہ کرنے کی گزارش کی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ’’میں مراد آباد سے آیا ہوں یہ دیکھنے کے لیے کہ آخر یہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ میں شہریت قانون یا این آر سی کی حمایت نہیں کرتا ہوں کیونکہ اس سے ہندوستانیوں پر منفی اثر پڑنے والا ہے اور سب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر ہوگا۔‘‘ اس شخص نے بتایا کہ اسٹیج پر جو لوگ بیٹھے ہیں وہ صرف ’پاور‘ اور ’پیسے‘ کے لیے ان کے ساتھ ہیں۔

غور طلب ہے کہ اسی مہینے بی جے پی کے کارگزار صدر جے پی نڈا نے عیسائی طبقہ کے ساتھ میٹنگ کی تھی جس میں 15 پادریوں نے حصہ لیا تھا۔ اس میٹنگ میں بی جے پی کے نائب صدر دشینت گوتم اور ٹام وڈکن نے بھی اپنی بات رکھی تھی۔

Published: 17 Jan 2020, 10:11 AM
next