شمال مشرق میں گڑبڑایا سنگھ کا حساب، اے جی پی-این پی پی نے بی جے پی کے منصوبوں پر پھیرا پانی

بی جے پی کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ شیو سینا، ایم این ایس وغیرہ نے مہاراشٹر، گجرات میں یو پی-بہار کے ہندؤوں کو نہیں بخشا، تو پھر وہ باہر سے آنے والے ہندؤوں، عیسائیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کریں گے!

سرور احمد

شمال مشرق میں بی جے پی کو اس وقت دوپرا جھٹکا لگا جب حال ہی میں اس کے دو قابل اعتماد اتحادیوں آسام گن پریشد (اے جی پی) اور نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے اس سے کنارہ کشی اختار کر لی۔ اے جی پی نے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور این پی پی بھی باہر کے راستہ پر ہے۔ یہ سب ایک مہینے کے اندر ہوا، اس سے پہلے بہار میں بی جے پی کی معاون رہی آر ایل ایس پی نے این ڈی اے سے اتحاد توڑ کر حزب اختلاف کے عظیم اتحاد کا دامن تھام لیا۔

دریں اثنا زعفرانی جماعتوں نے 10 فیصد اعلیٰ ذات ریزرویشن دے کر ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کو بھی ناراض کر دیا۔ واضح رہے کہ شمال مشرق میں بی جے پی کی سیاسی زمین علاقائی جماعتوں کی مدد سے تیار ہوئی ہے اور ایسے میں ضرورت تھی کہ بی جے پی ان جماعتوں کو سنبھال کر رکھتی لیکن اس کی بھوک بڑھتی گئی اور وہ شمال مشرق میں اپنا سامراج بڑھارنے کی ترکیبیں لڑانے لگی۔

شہریت ترمیمی بل سے ناراض اے جی پی نے یہ کہہ کر کناراکشی اختیار کر لی کہ یہ 15 اگست 1985 کو ہوئے آسام معاہدے کے دین خلاف ہے۔ آسام میں قومی شہریت کا رجسٹر بھی اسی بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے۔ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ 24 مارچ 1971 کے بعد آسام میں آنے والے کسی بھی باہری شخص کو شہریت نہیں دی جائے گی۔ دراصل اے جی پی اور ’آل آسام اسٹوڈنٹ یونین‘ نے 1980 میں اسے لے کر ایک بڑی تحریک چلائی تھی لیکن اے جی پی کا موقف ہے کہ شہریت ترمیمی بل ان تمام کاوشوں پر پانی پھر دیگا کیونکہ نئے بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت حاصل ہو جائے گی۔ ہاں مسلمانوں، یہودیوں اور بہائی عقائد پر یقین رکھنے والے افراد کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔

ایسا نہیں ہے کہ اے جی پی نے اچانک خود کو این ڈی اے سے علیحدہ کیا ہو۔ وہ کافی وقت سے بی جے پی کو اشارتاً تنبیہ کر رہی تھی لیکن بی جے پی نے اپنے غرور میں ان کی باتوں پر کان نہیں دھرے۔ اے جی پی کا ماننا ہے کہ شہریت قانون سے ملک میں سرحد پار سے کی جانے والی دراندازی کو فروغ ملے گا لیکن بی جے پی کے ارادے کچھ اور ہی ہیں۔ بی جے پی لوک سبھا انتخابات سے قبل بنگالی زبان بولنے والے آسام کے ہندوؤں کو مائل کرنا چاہتی ہے۔ دراصل بی جے پی کی سوچ یہ ہے کہ ملک کے ہندو، عیسائی، بودھ، جین اور پارسی لوگ اس بل کا خیرمقدم کریں گے۔ لیکن بی جے پی کے اس منصوبہ اور ارادے کو ہندو نواز سیاسی جماعت ’آسام گن پریشد‘ نے جھٹکا دیا ہے، وہیں عیسائی اکثرت والے میگھالیہ کی این پی پی بھی بل کی مخالفت میں ہے۔

اس سب سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سنگھ پریوار ریاضی میں کمزور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسام میں تقریباً نصف آبادی (تقریباً 48.38 فیصد) آسامی زبان بولتی ہے جبکہ تہائی آبادی (30 فیصد) بنگالی زبان بولتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بنگالی بولنے والی اس آبادی میں مسلمانوں کی کثیر تعداد شامل ہے اور کم از کم بنگالی بولنے والی یہ آبادی تو ہرگز اس بل کی حمایت میں نہیں آ سکتی۔

تو کیا یہ مانا جائے کہ بنگالی بولنے والے آسامی ہندؤوں کے لئے بی جے پی نے جلدبازی میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسام کے ہندو بنگالی بھی اس بل سے خوش نہیں ہیں کیوں کہ این آر سی سے ان کے نام بھی غائب ہو گئے ہیں۔

بی جے پی قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ مغربی بنگال کے بنگالی اور راجستھان و گجرات جیسی ریاستوں کے ہندو اسے صرف اس بنیاد پر ووٹ دے دیں گے کہ اس نے بنگلہ دیشی، پاسکتانی اور دیگر مملاک کے ہندوؤں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ اس کے بھرم کے سوا اور کچھ بھی نہیں!

بی جے پی کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مہاراشٹر، گجرات اور دیگر ریاستوں میں رہنے والے یو پی-بہار کے ہندؤوں کے ساتھ شیو سینا، ایم این ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے کیا سلوک کیا تھا۔ پھر وہ ہمسایہ ممالک سے آنے والے ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کیا نہیں کریں گے!