آر آر بی امتحان: ’ہاتھ جوڑتے ہیں، احتجاج میں شامل مت ہوئیے!‘ خان سر کی طلبا سے اپیل

پٹنہ کے مشہور کوچنگ دینے والے ’خان سر‘ نے دیر رات گئے ویڈیو جاری کر طلبا سے اپیل کی ہے کہ ان کے مطالبات کو حکومت کے سامنے رکھا گیا ہے لہذا 28 جنوری کو کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت نہ کریں

خان سر / تصویر سوشل میڈیا
خان سر / تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: ریلوے امتحان (آر آر بی این ٹی پی سی سی بی ٹی 2 اور گروپ ڈی سی بی ٹی 1) میں دھاندلی کے الزام پر طلبا کئی دنوں سے بہار اور یوپی میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ پر طلبا تنظیموں نے آج بہار میں بند کا اعلان کیا ہے۔ اس بند کو آر جے ڈی سمیت کئی سیاسی جماعتیں حمایت دے رہی ہیں۔ دریں اثنا، پٹنہ کے زیر بحث کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلانے والے ’خان سر‘ نے ویڈیو جاری کر کے طلبا سے اپیل کی ہے کہ وہ آج کے احتجاجی مظاہرہ میں شامل نہ ہوں کیونکہ ریلوے نے طلبا کے مطالبات قبول کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔

خان سر نے ویڈیو میں کہا، ’’آپ کے تمام مطالبات حکومت کے ساسمنے رکھے گئے ہیں۔ ہم آپ کے تمام خدشات کو دور کرتے ہیں۔ 28 جنوری کو کسی قسم کے احتجاج میں حصہ نہ لیں، اس سے آپ غلط ثابت ہوں گے۔ اب بہار کے سابق نائب وزیر اعلی سشیل مودی کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر ریلوے سے بات کی ہے، وہ طلبہ کے مطالبے سے متفق ہیں۔‘‘


خان سر نے کہا، "ریلوے کے وزیر بھی اس بات سے متفق ہیں کہ 20 گنا زیادہ رزلٹ دیا جائے گا۔ نمبر دہرائے نہیں جائیں گے۔ مزید 3.5 لاکھ بچوں کو شامل کیا جائے گا۔ این ٹی پی سی والوں کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ گروپ ڈی والوں میں سی بی ڈی ٹی 2 کو اچانک شامل کیا گیا تھا، اسے ہٹا دیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی بھی اس میں شامل تھے، اس لیے آسانی سے اتفاق رائے قائم ہو گیا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ غلطی وزیر ریلوے یا وزیر اعظم کی نہیں تھی، یہ آر آر بی کی غلطی تھی۔ آر آر بی بھی کچھ چیزوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا۔ اتنا بڑا امتحان کرانے کے لیے اسے کوئی کمپنی جلدی نہیں مل رہی تھی۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کچھ ریاستوں میں الیکشن ہیں اس لیے ایسا ہو رہا ہے۔ یہ سب غلط ہے۔ یہ کسی طالب علم یا استاد کا بیان نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی بیان ہے۔ ریلوے کو طلبا کی بات ماننی پڑے گی کیونکہ یہ ترمیم ہو چکی ہے اور کمیٹی بھی بن چکی ہے۔ یہ آر آر بی کا فیصلہ نہیں ہے۔ اس میں ریلوے کی وزارت اور پی ایم او شامل ہیں۔ ایسے حالات میں اگر طالب علم 28 جنوری کو ہونے والے مظاہرے میں شریک ہوں گے تو دوسرے لوگ اس کی آڑ میں تشدد اور آتش زنی کریں گے، جیسا کہ آرا میں ٹرین کو نذر آتش کیا گیا اور نقصان طلبا کا ہوگا۔


قبل ازیں پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ طلباء کے زبردست مظاہرے کے پیچھے کچھ کوچنگ آپریٹرز کا ہاتھ ہے۔ اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن خان سر کئی دنوں سے آر آر بی این ٹی پی سی کے معاملے پر بات کر رہے تھے۔ ایسے میں سمجھا جاتا تھا کہ ان کا اشارہ خان سر کی طرف تھا۔ تاہم بعد میں خان سر نے کہا کہ اگر اس سب میں ان کا کوئی کردار ہے تو انتظامیہ انہیں گرفتار کرے۔ خان سر نے کہا تھا کہ اگر انتظامیہ نے انہیں گرفتار کیا تو احتجاج ختم ہونے کی بجائے مزید مشتعل ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔