عام آلہ کو وینٹی لیٹر بتا کر مریضوں کی زندگی سے کھیل رہی ہے گجرات حکومت: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ گجرات حکومت ڈاکٹروں کے مشورے کو طاق پر رکھ کر آکسیجن لینے کے لئے استعمال ہونے والے عام آلہ کو وینٹی لیٹر بتا کر خرید رہی ہے اور کورونا مریضوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ گجرات حکومت ڈاکٹروں کے مشورے کو طاق پر رکھ کر آکسیجن لینے کے لئے استعمال ہونے والے عام آلہ کووینٹی لیٹر بتا کر خریداری کر رہی ہے اور کورونامریضوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔

کانگریس کے ترجمان پون كھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلی وجے روپانی نے جس آلے کو وینٹی لیٹر بتا کر خوب تشہیر کی، ڈاکٹر ہی بتا رہے ہیں کہ وہ استعمال کے لائق نہیں ہیں لیکن وزیر اعلی ڈاکٹروں کے مشورہ کو نظر انداز کرکے مریضوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روپانی نے اس آلے کی ہسپتالوں میں خریداری کرائی لیکن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے ناکام بتا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا کوروناوبا کی شکار ہے تو گجرات کے وزیر اعلی حیرت انگیز کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے چار اپریل کو احمد آباد کے سول ہسپتال میں دھمن -1 وینٹی لیٹر لگانے کا حکم دیا اور کہا کہ ریاست میں تیار یہ وینٹی لیٹر سستا اور بہت کارآمد ہے جس کی بعد میں عالمی سطح پر فروخت کی جائے گی۔ انہوں نے پریس كانفرنس میں اس وینٹی لیٹر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے میڈ ان انڈیا مہم کے لئے بہت اہم بتایا اور اس وینٹی لیٹر کو خریدنے کے اس کی ڈیولپر کمپنی کو حکم دیا۔

ترجمان نے کہا کہ احمد آباد کے جس سول ہسپتال میں اس وینٹی لیٹر کی خریداری کی گئی اسی ہسپتال کے ڈائریکٹر نے اسے ناکام بتایا اور ریاستی حکومت سے کم از کم 50 وینٹی لیٹر فراہم کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ جسے وینٹی لیٹر بتا کر وزیر اعلی نے پرتشہیر کی وہ جسم میں آکسیجن کی فراہمی کرنے والی ایک مشینی ایمبو بیگ ہے جسے جیوتی سی این سی کمپنی نے بنایا ہے۔

كھیڑا نے کہا کہ دھمن -1، چار اپریل کو اس ہسپتال میں لگانے کے آغاز وزیر اعلی روپانی نے کیا اور 15 مئی کو ہسپتال کے ڈائریکٹر نے اسے ناکام بتا دیا۔ اس طرح سے کچھ ہی دن میں وینٹی لیٹر بنانے والی اس کمپنی کی مصنوعات اور وزیر اعلی کے دباؤ میں آکر کمپنی کے وینٹی لیٹر خریدنے کی پول کھل گئی۔ ان کا الزام ہے کہ ڈائریکٹر کے اسے بیکار بتانے کے باوجود حکومت اسے کامیاب بتانے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میک ان انڈیا‘ کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس ہسپتال میں حکومت نے سب سے زیادہ مشینیں لگانے کا حکم دیا تھا لیکن اس کے ڈائریکٹر نے ہسپتال کے لئے فوری طور 50 وینٹی لیٹر دستیاب کرانے کا مطالبہ کر دیا جس سے افرا تفری مچ گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر اس مشین کو وینٹی لیٹر بتاکر پیش کیا ہے لہذا اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی لیکن گجرات حکومت الٹے اس معاملے میں لیپا پوتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

كھیڑا نے کہا کہ کمپنی نے صرف ایک ہی شخص پر اس وینٹی لیٹر کی تجربہ کیا تھا اور وزیر اعلی نے کمپنی کے اس کے استعمال کی بنیاد پر ہی اسے وینٹی لیٹر مان کر اس کی خریداری کے احکامات دیے ہیں۔ بہت سی دوسری جگہوں سے بھی اس کے لئے آرڈر آئے ہیں لیکن اصلیت سامنے آنے کے بعد سبھی آرڈر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ پڈچیری حکومت نے بھی اس کے لئے آرڈر دیا تھا لیکن اب آرڈر واپس لے لیے گئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ انہیں موصول ہوئی اطلاع کے مطابق دھمن -1 بنانے والی کمپنی کے مالک کا تعلق سورت کے اسی خاندان سے ہے جس نے مودی کو دس لاکھ روپے کا مشہورسوٹ دیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد لوگوں کے دماغ میں بار بار سوال اٹھا رہا ہے کہ روپانی کی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے اس مشین کو وینٹی لیٹر بتایا اور ہسپتالوں کو ان آلات کی فراہمی وینٹی لیٹر کے طور پر کرنے کے لئے کہا۔

    Published: 23 May 2020, 9:50 PM