میڈیا مسئلہ اٹھائے ، سوال کرے لیکن حل بھی پیش کرے: دویدی

آزادی کے بعد ، صحافت ، حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہوئے ، آزاد ہندوستان کے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کیا۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (آئی آئی ایم سی ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پروفیسر سنجے دویدی نے آج کہا کہ ہندوستانی میڈیا کو ’ محض سوال کرنے والے میڈیا کی جگہ اب حل پیش کرنے میں معاون میڈیا‘ کا کردار اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج آزادی کا امرتسو منانے والے ہندوستان کے لیے آئندہ 25 برس بہت اہم ہیں۔ آنے والے وقت میں ملک میں جمہوریت کو مزید مضبوط اور پختہ بنانے میں عوامی مواصلات کے ذرائع کا کردار اہم ہوگا۔ پروفیسر دویدی یہاں پرجاپتی بہرماکماری ایشوریہ یونیورسٹی کے ایک راج یوگ سینٹر اور دہلی جرنلسٹ اسوسی ایشن (ڈی جے اے) کی جانب سے صحافیوں کے لیے مینٹل اسٹریس مینیجمنٹ (ذہنی تناؤ سے نمٹنے کا انتظام) پر ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔


انہوں نے کہا ، ’ہندوستانی تاریخ کے مختلف ادوار میں میڈیا کا کردار بدلتا رہا ہے۔ آزادی سے پہلے ہندوستان میں صحافت نے عوامی بیداری کے ذریعے آزادی کے جذبے کو بیدار کرنے کا کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ، صحافت ، حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہوئے ، آزاد ہندوستان کے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کیا‘۔

پرو فیسر دویدی نے کہا کہ آج کے میڈیا میں’محض سوالوں کی بوچھار اور سنسنی‘ دور بہت لمبا چل چکا ہے۔ میڈیا کو آئندہ 25 برس تک ہندوستان میں ’ مساوات پر مبنی سماج‘ بنانے میں حصہ داری دینے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔


انہوں نے کہا ، ’حل پیش کرنے والی صحافت وقت کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کو نہ صرف عوام کے سامنے مسائل اور سوالات پیش کرنے چاہئیں بلکہ ان کے حل اور تجاویز بھی عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔