اجیت پوار طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے متعلق سرگرداں روہت پوار کی راہل گاندھی سے ملاقات
راہل گاندھی سے ملاقات کرنے بعد روہت پوار نے کہا کہ ’’طیارہ حادثے سے متعلق معاملے میں نہ ہی اب تک کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل پائی ہے۔‘‘
مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی طیارہ حادثے میں موت کے بعد واقعے کے متعلق مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے بھتیجے روہت پوار طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ اب تحقیقات کے مطالبے کے سلسلے میں انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ اس حادثے کے متعلق اب تک نہ کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل سکی ہے۔
واضح رہے کہ 28 جنوری کو ہونے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے مطالبے کے سلسلے میں این سی پی (ایس پی) کے لیڈر روہت پوار نے جمعرات (12 مارچ) کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ راہل گاندھی سے ملاقات کرنے بعد روہت پوار نے ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ’’طیارہ حادثے سے متعلق معاملے میں نہ ہی اب تک کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل پائی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راہل گاندھی کے علاوہ سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملے پر مکمل تعاون اور ہر ممکن قدم اٹھانے کا یقین دلایا ہے۔
این سی پی (ایس پی) رکن پارلیمنٹ روہت پوار نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ’’میں اپنے چچا (اجیت پوار) کی موت کی تحقیقات کرا کر رہوں گا۔ جہاں تک سنیترا پوار (اجیت پوار کی اہلیہ) کی بات ہے تو وہ ابھی اقتدار میں ہیں، حکمراں جماعت کے لیے یہ سب آسان ہوتا ہے۔ لیکن کیوں نہیں ہو رہا ہے یہ میں نہیں کہہ سکتا۔ سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، انہیں بھی حکومت پر دباؤ بنانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میری ذمہ داری اور حق ہے کہ میں ان کے لیے انصاف کی لڑائی لڑوں۔ میں نے اپنی پارٹی کے لیڈران کی حمایت، دعا اور طاقت کے ساتھ یہ لڑائی جاری رکھی ہے۔ مہاراشٹر کے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے ہردلعزیز اجیت دادا کو انصاف ملے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ طیارہ حادثے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرنے کے متعلق روہت پوار نے ایک بار پھر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حادثے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اصل میں معاملہ سی بی آئی تک پہنچا ہے یا نہیں۔