دہلی میں روہنگیا کیمپ جل کر خاک، تقریباً 225 لوگ بے یار و مددگار

دہلی کے کالندی کنج واقع روہنگیا کیمپ میں آج علی الصبح آگ نے نہ صرف روہنگیا افراد کے رہنے کا ٹھکانہ چھین لیا بلکہ سبھی کاغذات اور دستاویزات بھی جل کر خاک ہو گئے۔

By قومی آوازبیورو

دہلی میں کالندی کنج کے پاس روہنگیا کیمپ میں دیر رات اچانک زبردست آگ لگ گئی۔ آگ سے پورا کیمپ جل کر خاکستر ہو گیا۔ غنیمت یہ ہے کہ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگ مقیم تھے جن کا پورا سامان آگ کی نذر ہو گیا۔ یہ آگ کس طرح لگی، فی الحال اس سلسلے میں کوئی مصدقہ جانکاری حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ آگ کی اطلاع ملنے کے بعد فائر بریگیڈ دستہ اور کچھ این جی او مدد کے لیے موقع پر پہنچ گئے ہیں اور آگ پر بھی قابو پا لیا گیا ہے۔

کیمپ میں آگ لگنے کی خبر ملنے کے بعد اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور حالات کا جائزہ لیا۔ ایس آئی او کے نیشنل سکریٹری سید اظہر الدین نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’’کیمپ میں رہنے والے ایک شخص نے آگ کی اطلاع ہمیں دی۔ جس وقت ہم موقع پر پہنچے اس وقت فائر بریگیڈ کا دستہ آگ بجھانے میں مشغول تھا۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’آگ صبح تقریباً 3 بجے لگی تھی۔ آگ سے کیمپ پوری طرح جل کر خاک ہوچکا ہے اور کیمپ میں رہائش پذیر لوگوں کے سامان کے ساتھ ان کے دستاویزات بھی جل گئے ہیں۔‘‘

کیمپ میں رہنے والے علی جوہر نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’’آگ صبح میں 3 بجے لگی اور 3.15 میں فائر اسٹیشن کو اس کی خبر دی گئی۔ وہ لوگ 3.55 میں یہاں پہنچے اور آگ بجھانے میں تقریباً 4 گھنٹے لگ گئے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’آگ سب سے پہلے کیمپ کے پیچھے واقع بیت الخلاء میں لگی جوتیزی کے ساتھ پورے کیمپ میں پھیل گئی۔ ہم لوگوں نے کسی طرح اپنی جان بچائی کیونکہ اپنے سامانوں کو بچانے کا موقع نہیں ملا۔ کچھ لوگوں نے اپنے کاغذات بچا لیے، لیکن اکثر لوگوں کا سب کچھ جل کر خاک ہو گیا۔‘‘

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ایس آئی کے نیشنل سکریٹری سید اظہر الدین نے وہاں پریشان حال روہنگیا کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’کیمپ میں رہنے والے تقریباً 225 لوگوں کے سر سے چھت چھن گیا ہے اور اس میں 40 سے 50 بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے لیے کھانے-پینے کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا، سب جل کر خاک ہو گیا ہے۔ آس پاس کے لوگ انھیں کھانے پینے کی چیزیں مہیا کرا رہے ہیں۔‘‘

ایس آئی او کے نیشنل سکریٹری نے ’قومی آواز‘ کو مزید بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ سب سے پہلے متاثرین کو شیلٹر اور کھانے پینے کی چیزیں مہیا کرائی جائیں اور اس کے لیے ہم نے دیگر این جی او سے بھی مدد مہیا کرانے کے لیے بات کی ہے۔ اظہر الدین نے بتایا کہ ’’موقع پر انھوں نے حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے کسی طرح کی مدد مہیا کراتے ہوئے نہین دیکھا۔ جس وقت کیمپ میں آگ لگا تھا، اس وقت کچھ پولس والے موقع پر موجود ضرور تھے لیکن متاثرین کے رہنے یا کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوئے انھیں نہیں دیکھا گیا۔‘‘

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز