’عوام کی لوٹ اور اڈانی کو چھوٹ، یہی ہے مودی جی کا کمپرومائزڈ ماڈل‘، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر کھڑگے برہم

کانگریس صدر کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’میں ایک بار پھر دہراتا ہوں، بی جے پی میں دور اندیشی اور لیڈرشپ کی کمی ہے۔ جب بحران آیا تب انتخابات میں مصروف رہے، پھر چکنی چپڑی باتیں کر لوٹ کا منصوبہ بنایا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ عام عوام پر ڈال رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کھڑگے نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور حکومت مسلسل عوام کو معاشی دباؤ میں دھکیل رہی ہے۔

کھڑگے نے پٹرول-ڈیزل کی قیمت میں تازہ اضافہ پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’قیمتوں میں اضافہ کے چند روز بعد ہی مودی حکومت نے دوبارہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ حکومت پہلے ایک ماحول تیار کرتی ہے، بچت اور کفایت شعاری کے مشورے دیتی ہے اور پھر اپنی ناکامیوں کی قیمت عوام سے وصول کرتی ہے۔‘‘ کانگریس صدر نے اپنے بیان میں آگے لکھا ہے کہ’عوام کی لوٹ اور اڈانی کو امریکہ سے چھوٹ‘ ہی مودی جی کا ’کمپرومائزڈ ماڈل‘ بن چکا ہے۔ ان کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف عام شہریوں پر معاشی بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ دوسری طرف مخصوص صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔


کھڑگے نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے کو بھی اس سوشل میڈیا پوسٹ میں اٹھایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے امریکہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روسی تیل خریدنے کے لیے ایک ماہ کی توسیع حاصل کی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ملک کے تقریباً 140 کروڑ عوام کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ ماضی کی کسی حکومت نے اس نوعیت کا رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے مطابق روسی تیل کی خریداری کی اجازت حاصل ہو گئی ہے تو پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت کو یہ وضاحت پیش کرنی چاہیے کہ عوام کو مہنگائی کی مار کیوں جھیلنی پڑ رہی ہے۔

بی جے پی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے اپنے ایک پرانے بیان کو بھی دہرایا کہ پارٹی میں دور اندیشی اور مؤثر قیادت کا فقدان ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب ملک بحران کے دور سے گزر رہا تھا، اس وقت حکمراں جماعت انتخابات میں مصروف تھی اور بعد میں عوام کو متاثر کرنے کے لیے خوبصورت باتوں کے ذریعے نئے منصوبے بنائے گئے۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ صرف بیرونی ممالک میں تشہیری مہم چلانے سے کوئی ملک ’وشو گرو‘ نہیں بن جاتا بلکہ عوام کے تئیں جوابدہی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بھی ضروری ہے۔


کانگریس صدر نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے بجائے حکومت کو ان سوالات کے جواب دینے چاہئیں جو براہ راست عام شہریوں کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اپنے بیان کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ اگر حکومت بحران کے حل کے لیے اپنے عملی اقدامات واضح کرتی ہے، تبھی وہ خود کو حقیقی معنوں میں ’پردھان سیوک‘ کہلا سکتی ہے، بصورت دیگر وہ صرف ایک ’تشہیری حکومت‘ بن کر رہ جائے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔