’مودی نے پچھلے 4 دن میں 4 روپے بڑھا دیے‘، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد کانگریس کا حملہ

کانگریس نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ تو بس شروعات ہے۔ مہنگائی مَین ابھی مزید وصولی کرے گا، کیونکہ انتخابات ختم ہو گئے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مہنگائی، گرافکس اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

منگل کی صبح عوام کو اس وقت مہنگائی کا زوردار دھچکا لگا، جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا گیا۔ اس اضافہ کے بعد جہاں ایک طرف عوام ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ تو بس شروعات ہے۔ مہنگائی مَین ابھی مزید وصولی کرے گا، کیونکہ انتخابات ختم ہو گئے ہیں۔‘‘

یہ تبصرہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’عوام پر ’مہنگائی مَین‘ مودی کا ہنٹر پھر چلا۔ پٹرول-ڈیزل 90 پیسہ مہنگا کر دیا گیا۔ مودی نے گزشتہ 4 دنوں میں 4 روپے بڑھا دیے ہیں۔ اس اضافہ کے ساتھ ملک میں پٹرول 109 روپے اور ڈیزل 96 روپے پہنچ گیا ہے۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ آگے بھی جاری رہنے والا ہے، کیونکہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔


دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ پارٹی لیڈر مرتیونجے تیواری نے ایک میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول-ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا اثر دیگر چیزوں کی قیمتوں پر بھی پڑے گا، یعنی مہنگائی کے اثرات اب واضح طور پر ہر شعبہ میں دکھائی دے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد اب ایندھن کی قیمتیں آگے بھی بڑھیں گی اور عوام پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا۔ مرتیونجے تیواری کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے 5 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے بیانات میں انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتیں بڑھنے جو خدشہ ظاہر کیا تھا، وہ درست ثابت ہوا ہے۔ اب عوام بھی سمجھ رہی ہے کہ حکومت اس پر کس طرح ظلم کر رہی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔