سڑکوں کو مسدود نہیں کیا جانا چاہیئے: سپریم کورٹ

ایک خاتون کی جانب سے نوئیڈا سے دہلی کے درمیان کی سڑکوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ عوامی سڑکوں پر ٹریفک کو مسدود نہیں کیا جا سکتا

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز کہا کہ عوامی سڑکوں پر نقل و حمل کو کسی بھی صورت میں مسدود نہیں کیا جا سکتا۔نوئیڈا کی رہائشی ایک خاتون کی جانب سے نوئیڈا سے دہلی کے درمیان کی سڑکوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمی نے یہ تبصرہ کیا۔

جسٹس سنجے کول کی سربراہی والی بنچ نے کہا، ’’سڑکوں کو مسدود نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ عرضی گزار نامناسب استحصال کا سامنا کر رہی ہے اور اس معاملہ میں متعلقہ افسران کو بندوبست کرنا چاہیئے کہ راستہ صاف رہے۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مونیکا اگروال کی عرضی پر مرکز اور دہلی پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کیا تھا۔ انہوں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ نوئیڈا اور دہلی کے سفر کو طے کرنے میں عموماً 20 منٹ لگتے تھے، اب اس میں 2 گھنٹے لگتے ہیں۔


سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا، ’’عوامی سڑکوں کو مسدود نہیں کیا جانا چاہیئے اور اس پہلو پر اس عدالت کے گزشتہ احکامات میں بار بار زور دیا گیا ہے۔ عرضی گزار سنگل پیرینٹ ہیں، ایسے حالات میں اگر سڑکیں بند بھی رہتی ہیں تو یہ ان کے ساتھ استحصال کے مترادف ہے۔‘‘

دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے گزارش کی کہ اس معاملہ میں اتر پردیش اور ہریانہ حکومت کو فریق بنایا جائے۔‘‘

اس پر جسٹس کول نے کہا، ’’ہمیں اس بات مطلب نہیں ہے کہ آپ اس مسئلہ کو کس طرح حل کرتے ہیں۔ آپ اسے خواہ سیاسی طور پر حل کریں یا انتظامی طور پر، ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ سڑکوں کو مسدود نہیں کیا جانا چاہیئے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔