نوجوت سدھو غیر ارادتاً قتل کیس میں سپریم کورٹ سے بری

نوجوت سنگھ سدھو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 1988 کے پٹیالہ روڈریز سانحہ میں پنجاب کے کابینہ وزیر اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو غیر ارادتاً قتل کے معاملہ میں آج بری کر دیا۔

جسٹس جےچیلامیشور اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے 30 سال پرانے اس معاملہ میں اپنا فیصلہ سنایا اور سدھو کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 304 کے تحت غیر ارادتاً قتل کے معاملہ میں بری کر دیا۔ کورٹ نے حالانکہ انہیں دفعہ 323 (چوٹ پہنچانے) کا مجرم ٹھہرایا اور اس کے لئے صرف ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ سدھو کے دوست روپندر سنگھ سدھو کو دونوں ہی دفعات میں بری کر دیا گیا ہے۔

بنچ نے گذشتہ 18 اپریل کو اس معاملہ میں تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سماعت کے دوران سدھو کی جانب سے پیش وکیل آر ایس چیمہ نے پنجاب حکومت کے وکیل کی طرف سے سدھو کو قتل کا مجرم بتائے جانے پر احتجاج کیا تھا۔

اس معاملہ میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سابق کرکٹر کو تین سال کی سزا سنائی تھی جس کے بعد سدھو نے سزا کے خلاف عدالت میں اپیل کی تھی۔ گزشتہ 12 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران سدھو کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا تھا، جب ریاستی حکومت نے سابق کرکٹر کو روڈریز کے معاملہ میں مجرم قرار دیا تھا۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ 2006 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے سدھو کو ملی سزا کو برقرار رکھا جائے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں شامل نہیں ہونے کا سدھو کا بیان جھوٹا تھا۔

خیال رہے 1988 میں سدھو کا پٹیالہ میں کار سے جاتے وقت گرنام سنگھ نامی بزرگ شخص سے جھگڑا ہوا تھا۔ الزام ہے کہ ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور بعد میں گرنام سنگھ کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس نے سدھو اور ان کے دوست روپندر سنگھ سندھو کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا۔ بعد میں نچلی عدالت نے سدھو کو بری کر دیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول