انقلابی شاعر ورا ورا راو کی جیل میں صحت خراب، اہل خانہ کا مناسب علاج فراہم کرنے کا مطالبہ

ایلگار پریشد معاملہ میں گرفتار حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سرکردہ انقلابی شاعر و جہدکار ورا ورا راو کے خاندان نے دعوی کیا ہے کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

یو این آئی

حیدرآباد: ایلگار پریشد معاملہ میں گرفتار حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سرکردہ انقلابی شاعر و جہدکار ورا ورا راو کے خاندان نے دعوی کیا ہے کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔ 81 سالہ انقلابی شاعر فی الحال نوی ممبئی ٹاون شپ کی تلوجہ جیل میں محروس ہیں۔ صحت کی خرابی پر ان کو جے جے اسپتال منتقل کیاگیا تھا جہاں ان کے تین دن علاج کے بعد ان کو دوبارہ اسی جیل بھیج دیا گیا۔

راو کے خاندان نے حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ وہ انہیں بہتر طبی امداد فراہم کرے۔ ورا ورا راو کی اہلیہ، ان کی دختران اور دیگر ارکان خاندان نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ وہ اس پر فکر مند ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے جے جے اسپتال منتقل کرنے کے بعد سے ہی ان کی صحت میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے۔

ان کی اہلیہ نے کہا کہ انقلابی شاعر کا خاندان کافی مضطرب ہے کیونکہ پولیس کی جانب سے ان سے معمول کے فون کال کے دوران ان کی آوازکافی کمزور تھی اور وہ مناسب انداز سے بات کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ہفتہ کو ان سے ہوئی بات چیت کے دوران انقلابی شاعر نے اپنی صحت کے بارے میں مناسب جواب نہیں دیا اور کئی دہائیوں قبل ان کے والدین کی آخری رسومات کے بارے میں بات کرتے رہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی صحت مناسب نہیں ہے اور یادداشت کافی کمزور ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح کی کمی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے امکانی طورپر ان کے دماغ کو نقصان پہنچا ہے۔

تلوجہ جیل جہاں وہ محروس ہیں میں ان کی طبی ضروریات کا خیال نہیں رکھاجارہا ہے۔یہ جیل ان کی طبی صورتحال سے نمنٹے کی اہل نہیں ہے۔ انہوں نے دعوی کیاکہ ورا ورا راوکی رہائی کے سلسلہ میں مرکزی مملکتی وزیرداخلہ کشن ریڈی سے بھی بات کی گئی تھی جو لاحاصل رہی۔ انقلابی جہدکار کی اہلیہ نے کہا کہ ان کی زندگی بچانے کیلئے انہیں بہتر اسپتال متنقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورا ورا راو 22 ماہ سے جیل میں محروس ہیں۔خرابی صحت اورکوویڈ19کے خطرہ کی بنیاد پر ان کی ضمانت منظور کرنے کے سلسلہ میں قبل ازیں داخل کردہ کئی ضمانت کی عرضیاں مسترد کردی گئیں۔

راو اور دیگر دس جہدکاروں کو ایلگار پریشد۔ماونوازوں سے تعلق کے معاملہ کے سلسلہ میں گرفتار کیاگیا تھا۔اس معاملہ کو بعد ازاں جاریہ سال جنوری میں این آئی اے کے حوالہ کردیاگیا۔ یہ معاملہ31دسمبر2017کو مہاراشٹر کے پونے میں ایلگار پریشد کے اختتامی اجلاس کے دوران مبینہ اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق ہے۔

    next