سکریٹری توانائی کے ریٹائرمنٹ کا اعلان حکومت پر اٹھا رہا ہے سوال

سبھاش چندر گرگ سابق وزیر خزانہ کے بہت قریبی مانے جاتے تھے اور وہی ان کو عالمی بینک سے وزارت خزانہ میں لے کر آئے تھے۔اس سے قبل گرگ عالمی بینک میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ملک کی معیشت میں اور معیشت کو چلانے والی وزارت میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔کل سب سے سینئر 1983 بیچ کے آئی اے ایس افسر سبھاش چندر گرگ نے اعلان کیا کہ وہ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں اور یہ اعلان انہوں نے اس کے بعد کیا جب انہیں وزارت خزانہ سے ہٹاکر وزارت توانائی میں منتقل کر نے کا علاان ہوا۔ گرگ نے ریٹائرمنٹ سے متعلق ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ 31 اکتوبر 2019 کو ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔ جب گرگ ریٹائر ہوں گے اس وقت ان کی ایک سال سے زیادہ کی نوکری باقی رہے گی۔ اس سے پہلے ریزرو بینک آف انڈیا کے دو گونر پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وزارت خزانہ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چلا رہا ہے۔

ویسے تو گرگ کے اس اعلان کی تشریح سب اپنے اپنے طریقے سے کر رہے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ گرگ سابق وزیر خزانہ کے بہت قریبی مانے جاتے تھے اور وہی ان کو عالمی بینک سے وزارت خزانہ میں لے کر آئے تھے۔ اس سے قبل گرگ عالمی بینک میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تھے۔ ان کو پہلے اقتصادی معاملات کا سکریٹری بنایا گیا تھا اور بعد میں ان کو سکریٹری خزانہ بنایا گیا تھا۔ اب ارون جیٹلی کے حکومت میں نہ ہونے کی وجہ سے ارو ن جیٹلی کے خاص لوگوں کے لئے کام کرنا شاید مشکل ہو رہا ہے۔ اسی لئے گرگ نے اس ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور گرگ گزشتہ 19 سالوں میں پہلے خزانہ کے افسر ہوں گے جو اپنی نوکری کی مدت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل سال 2000 میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں اقتصادی امور کے سکریٹری ای اے ایس سرما کو وزارت کوئلہ میں منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے وہاں چارج سنبھالنے کے بجائے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے لیا تھا اور اس وقت ان کی مدت کار ایک سال دو ماہ باقی تھی۔

سبھاش چندر گرگ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے ’’آج اقتصادی امور کا چارج دے دیا۔ وزارت خزانہ اور محکمہ اقتصادی امور سے بہت کچھ سیکھا۔ کل وزارت توانائی میں چارج سنبھا لوں گا اور میں نے آئی اے ایس سے 31 اکتوبر سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے لئے بھی درخواست دے دی ہے ‘‘۔ واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا میں گرگ کو کافی تنقید اس لئے جھیلنی پڑی تھی کیونکہ انہوں نے ہندوستان میں نجی کرپٹو کرنسی کی مخالفت کی تھی اور سرکاری ڈیجیٹل روپیہ شروع کرنے کی وکالت کی تھی۔ بہت ممکن ہے کہ ان کی نجی’ کرپٹو کرنسی ‘کی مخالفت ان کی وزارت خزانہ سے مخالفت کی وجہ رہی ہو۔ان کی قیادت میں بنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا ’’سرکاری ڈیجیٹل روپی کے شروع ہونے کے لئے راستہ ہے اور نجی کرپٹو کرنسی کسی بھی کام کی نہیں، اس پر پابندی صحیح ہے‘‘۔ اس کے علاوہ ان کے ریزرو بینک کے سابق گورنر ارجت پٹیل اور ڈپٹی گورنر ویرل آچاریہ سے بھی اختلافات ہو گئے تھے اور یہ دونوں بھی اپنی مدت کار ختم ہونے سے پہلے چھوڑ محکمہ کر چلے گئے تھے۔

گرگ کے اس اعلان کے پیچھے بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ سورن بانڈس کا اعلان اختلافات کی بڑی وجہ رہی ہے اور وزیر اعظم کا دفتر ان بانڈس کے اعلان سے خوش نہیں ہے، او را س کو محسوس ہوا کہ ان کو اس کی پوری معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم کے دفتر کی ناراضگی ہی ان کی منتقلی کی وجہ بنا۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت خراب ہے اور جو بھی اقدام حکومت اٹھا رہی ہے اس کے نتائج مثبت نہیں برآمد ہو رہے ہیں۔ اس لئے حکومت میں ایک بے چینی ہے۔ دوسری جانب معیشت کے جلد ٹھیک ہونے کے کوئی آثار بھی نظر نہیں ا ٓ رہے ہیں۔