’آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کا ثبوت نہیں‘، سی وی سی رپورٹ کی جانچ کرنے والے جسٹس پٹنایک کا بڑا بیان

سی وی سی رپورٹ سے متعلق جانچ کی نگرانی کرنے والے جسٹس پٹنایک کا کہنا ہے کہ ’’میں نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ سی وی سی کی رپورٹ میں کوئی بھی فیصلہ میرا نہیں ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جس سی وی سی رپورٹ کی بنیاد پر پی ایم مودی کی صدارت والی سلیکٹ کمیٹی نے آلوک ورما کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدہ سے ہٹا دیا، اس رپورٹ پر ہی سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ سبکدوش جسٹس اے کے پٹنایک نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت ہی نہیں تھا۔ یہاں قابل ذکر یہ ہے کہ اے کے پٹنایک کی نگراہی میں ہی سی وی سی نے آلوک ورما سے جڑے معاملے کی جانچ کی تھی اور اسی سی وی سی رپورٹ کو بنیاد مان کر آلوک ورما کو ان کے عہدہ سے ہٹایا گیا۔

جسٹس پٹنایک نے کہا کہ بدعنوانی کے معاملے پر آلوک ورما کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ پوری جانچ سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کی شکایت پر کی گئی تھی۔ جسٹس پٹنایک نے کہا کہ میں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سی وی سکی رپورٹ میں کوئی بھی فیصلہ یا نتیجہ میرا نہیں ہے۔ جسٹس پٹنایک نے استھانہ کے تحریری بیان کو لے کر بھی بڑی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سی وی سی نے مجھے 9 نومبر 2018 کو راکیش استھانہ کے ذریعہ مبینہ طور پر دستخط کردہ ایک بیان بھیجا تھا۔ میرا کہنا ہے کہ استھانہ کے ذریعہ دستخط کردہ یہ بیان میری موجودگی میں نہیں تیار کیا گیا تھا۔‘‘

جسٹس پٹنایک نے کہا کہ آلوک ورما پر پی ایم مودی کی صدارت والی کمیٹی نے جلد بازی میں فیصلہ لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آلوک ورما پر فیصلہ سلیکٹ کمیٹی کو کرنا چاہیے۔ جسٹس پٹنایک کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں نے بھی پی ایم مودی کی صدارت والی سلیکٹ کمیٹی کے فیصلے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے سابق جج اے کے پٹنایک کا یہ کہنا کہ آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے، بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پٹنایک جی کو جانچ کی ذمہ داری سی جے آئی نے دی تو ان کی رپورٹ کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ کیو دوبارہ پی ایم کی کمیٹی کو ہٹانے کا اختیار دیا؟ سچا کون ہے... گوگوئی، سیکری یا پٹنایک۔‘‘

غور طلب ہے کہ آلوک ورما کو سپریم کورٹ کے ذریعہ بحال کیے جانے کے دو دن بعد ہی پی ایم مودی کی صدارت میں ہوئی سلیکٹ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد انھیں عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سی وی سی کے 3 اراکین میں پی ایم مودی اور جسٹس اے کے سیکری، آلوک ورما کو عہدہ پر بنائے رہنے کے خلاف تھے۔ وہیں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے دونوں اراکین کے فیصلے کے حق میں نہیں تھے۔ انھوں نے سی وی سی رپورٹ پر عدم اتفاق ظاہر کیا تھا۔