پابندیوں کے باعث جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جا سکی

سری نگر کے شہر خاص کے نوہٹہ پولس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقوں میں حکام کی طرف سے عائد پابندیوں کے باعث تاریخی جامع مسجد میں محراب ومنبر جمعہ کے روز خاموش رہے اور نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: جموں کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شہر خاص کے نوہٹہ پولس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقوں میں حکام کی طرف سے عائد پابندیوں کے باعث تاریخی جامع مسجد میں محراب ومنبر جمعہ کے روز خاموش رہے اور نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔

یو این آئی کے نمائندے جس نے علاقے کا دورہ کیا، کے مطابق حکام کی طرف سے ممکنہ احتجاجوں کی روک تھام کے پیش نظر عائد پابندیوں کے باعث جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد کے تمام دروازے مقفل رکھے گئے تھے اور کسی بھی نمازی کو مسجد کی طرف پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جامع مسجد کے گرد وپیش اور جامع مارکیٹ میں سیکورٹی فورسز کی نفری بھاری تعداد میں تعینات کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جامع کی طرف جانے والی تمام سڑکوں بشمول رنگر سٹاپ، گوجوارہ اور نوہٹہ پرخار دار تار بچھا دی گئی تھی اور لوگوں کی نقل وحمل کو روکنے کے لئے بلٹ پروف گاڑیوں کو سڑکوں کے بیچوں بیچ کھڑا کیا گیا تھا۔

نمائندے نے کہا کہ پابندیوں کے باعث ان علاقوں میں بازار بھی بند تھے۔ تاہم شہر کے باقی علاقوں میں معمولات زندگی حسب معمول بحال تھے۔

دریں حریت کانفرنس (ع) کے ایک ترجمان نے حریت چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو ایک بار پھر اپنی رہائش گاہ میرواعظ منزل نگین میں نظر بند کرکے ان کی پر امن سیاسی و دینی سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر قدغن عائد کرنے اور مسلمانان کشمیر کی عظیم دینی و روحانی عبادت گاہ مرکزی جامع مسجد سری نگر کو ایک بار پھربندشوں کے دائرے میں لاکر وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کئے جانے اور شہر خاص کے بیشتر حصوں کو پابندیوں اور بندشوں کی زد میں لانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔

Published: 12 Jul 2019, 7:10 PM