’لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کی سیکورٹی بحال کرو‘، آر جے ڈی کارکنان کا بہار حکومت کو الٹی میٹم
آر جے ڈی کارکن نریندر کمار نے کہا کہ ’’جب تک یہ حکومت ہمارے لیڈروں کو پہلے کی طرح سیکورٹی نہیں دے دیتی، ہم ان کی حفاظتی ڈھال کے طور پر یہاں ڈٹے رہیں گے۔‘‘

بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو لالو پرساد یادو کی سیکورٹی میں کی گئی تخفیف پر سیاسی وبال بڑھتا جا رہا ہے۔ بہار حکومت کے فیصلے کے خلاف رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو نے ہفتہ کو بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر تعینات تمام سیکورٹی اہلکاروں کو واپس کردیا۔ اس واقعہ کے بعد آر جے ڈی کارکنان کی بڑی تعداد رابڑی دیوی کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو گئی۔
کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کی سیکورٹی بحال نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیڈروں کی حفاظت کریں گے۔ کارکنان کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ روز سے مسلسل رہائش گاہ کے باہر موجود ہیں اور 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے آر جے ڈی کے حامیوں نے کہا کہ اگر حکومت ان کے لیڈروں کی سیکورٹی بحال نہیں کرتی ہے تو ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قائدین کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کی ترجیح ہے۔
آر جے ڈی کارکن نریندر کمار نے کہا کہ جب تک یہ حکومت ہمارے لیڈروں کو پہلے کی طرح سیکورٹی نہیں دے دیتی، ہم ان کی حفاظتی ڈھال کے طور پر یہاں ڈٹے رہیں گے۔ ہم کل سے یہاں موجود ہیں اور 24 گھنٹے سیکورٹی دینے کے لئے تیار ہیں۔ وہیں دھننجے کمار چندرونشی نے کہا کہ ہم اس وقت تک یہیں رہیں گے جب تک کہ ہمارے لیڈر کی سیکورٹی کو بحال کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ پچھلے سیکورٹی انتظامات کو بحال کیا جانا چاہیے۔
راجیش کمار یادو نے حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر کی سیکورٹی ہٹانا ٹھیک نہیں ہے، یہ پہلی بار ہے کہ کسی سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ کوئی بھی آر جے ڈی کارکن یہ برداشت نہیں کرے گا۔ ہم 48 گھنٹے انتظار کریں گے، پھر بھی اگر سیکورٹی بحال نہیں ہوئی تو ریاست کے مختلف حصوں سے کارکن آکر ہمارے لیڈروں کی حفاظت کریں گے۔
آر جے ڈی کے ایک اور حامی نتیش کمار نے کہا کہ ’’ہم یہاں بیٹھ کر اپنے لیڈروں کی حفاظت کرتے رہیں گے جب تک سیکورٹی بحال نہیں ہو جاتی، پہلے کی طرح سیکورٹی بحال کی جانا چاہیے۔‘‘ دوسری طرف حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیکورٹی میں کی گئی تخفیف پر الزامات تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آر جے ڈی اس معاملے کو سیاسی انتقام کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
