چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے سے قبل تنازعات کا حل ضروری: عمران مسعود
کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ ’’برکس کی مضبوطی ہندوستان اور پورے براعظم کے لیے بہت ضروری ہے۔ دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ معیشت اور 60 فیصد سے زیادہ آبادی برکس ممالک کے پاس ہے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس میں روس، چین، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق رائے کو مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ برکس جتنا مضبوط ہوگا، ہندوستان اور پورے خطے کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ سہارنپور میں نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو نیا ورلڈ آرڈر تیار ہو رہا ہے، اس میں ہندوستان کا انتہائی اہم کردار ہوگا۔ برکس کی مضبوطی ہندوستان اور پورے براعظم کے لیے بہت ضروری ہے۔ دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ معیشت اور 60 فیصد سے زیادہ آبادی برکس ممالک کے پاس ہے۔ افرادی قوت بھی ہمارے پاس زیادہ ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر چین اور ہمارے درمیان جو تنازعہ ہے، اسے حل ہونا چاہیے۔ اگر برکس مضبوطی کی جانب بڑھتا ہے تو یقیناً برکس پوری دنیا میں ایک مضبوط ادارہ ہوگا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے برکس ممالک کی جانب سے یکطرفہ جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور یکطرفہ ٹیرف کی سخت تنقید اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے برکس کے ایک آواز میں کھڑے ہونے کے حوالے سے کہا کہ اگر برکس ممالک اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں تو ٹرمپ کو جھکنا پڑے گا۔ عمران مسعود نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے سے قبل ہندوستان کی زمین سے متعلق تنازعات کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد سے متعلق مسائل پر سنجیدگی سے کام کیا جانا چاہیے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے برکس اجلاس میں دہشت گردی پر بحث کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کوئی نہیں کرتا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے یوکرین کی مدد سے متعلق بیان پر عمران مسعود نے کہا کہ اگر ان کی خودمختاری پر حملہ ہوگا تو یقیناً یہ سب باتیں ہوں گی۔ مغربی بنگال میں مدارس کو جاری کیے گئے نوٹس پر کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ہندو-مسلمان کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔ یہاں مسلمان گوشت کھائے تو اسے پیٹا جاتا ہے، وہاں تو مندر میں بھی مچھلی کھائی جاتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
